حدیث نمبر: 537
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ جَمِيعًا ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " رُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` بعض اوقات میں اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچ دیا کرتی تھی ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 537
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الطہارة 32 ( 688 ) ، سنن ابی داود/الطہارة 136 ( 371 ) ، سنن النسائی/الطہارة 188 ( 298 ) ، ( تحفة الأشراف : 17676 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الطہارة 85 ( 116 ) ، مسند احمد ( 6 /67 ، 125 ، 135 ، 213 ، 239 ، 263 ، 0 28 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کپڑے سے منی کھرچنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بعض اوقات میں اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچ دیا کرتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 537]
اردو حاشہ:
اس سے معلوم ہوا کہ منی کو ناخن وغیرہ کے ساتھ کپڑے سے اتار دینا کافی ہے۔
ظاہر ہے کہ اس صورت میں اس کے بعض اجزاء کپڑے میں رہ جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود کپڑا پاک صاف ہی قرار دیا جائے گا دھونا ضروری نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 537 سے ماخوذ ہے۔