حدیث نمبر: 527
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَوْلُ الْغُلَامِ يُنْضَحُ ، وَبَوْلُ الْجَارِيَةِ يُغْسَلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے ، اور بچی کا پیشاب دھویا جائے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ لڑکے اور لڑکی کے پیشاب میں شریعت نے فرق رکھا ہے، اس کو روکنے کے لئے طرح طرح کی تاویلات فاسدہ کرنا محض تعصب بے جا کی کرشمہ سازی ہے، مسلمان کو اس کے رسول کا فرمان کافی ہے، اس کے سامنے اسے کسی دوسری طرف نہیں دیکھنا چاہئے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 527
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 18350 ، ومصباح الزجاجة : 220 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/ 422 ، 440 ، 464 ) ( صحیح ) » ( اس سند میں انقطاع ہے اس لئے کہ عمرو بن شعیب کا ام کرز سے سماع نہیں ہے ، لیکن سابقہ حدیث اور دوسرے شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم۔`
ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے، اور بچی کا پیشاب دھویا جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 527]
اردو حاشہ:
مذکورہ تمام روایات سے واضح ہے کہ شیر خوارگی کے ایام میں لڑکی کے پیشاب سے کپڑے کو دھویا جائے گا اور لڑکے کے پیشاب پر چھینٹے مارلینے کافی ہونگے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 527 سے ماخوذ ہے۔