سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلاَةٍ وَالصَّلَوَاتِ كُلِّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ باب: ہر نماز کے لیے وضو کرنے اور ایک وضو سے ساری نمازیں پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 511
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُبَشِّرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ " يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا ، فَأَنَا أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فضل بن مبشر کہتے ہیں کہ` میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ایک ہی وضو سے کئی نماز پڑھتے دیکھا ، تو میں نے کہا : یہ کیا ہے ؟ عرض کیا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے ، چنانچہ میں بھی ویسے ہی کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اگر وضو باقی ہے ٹوٹا نہیں ہے، تو ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھی جا سکتی ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ہر نماز کے لیے وضو کرنے اور ایک وضو سے ساری نمازیں پڑھنے کا بیان۔`
فضل بن مبشر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ایک ہی وضو سے کئی نماز پڑھتے دیکھا، تو میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، چنانچہ میں بھی ویسے ہی کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 511]
فضل بن مبشر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ایک ہی وضو سے کئی نماز پڑھتے دیکھا، تو میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، چنانچہ میں بھی ویسے ہی کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 511]
اردو حاشہ: (1)
کسی عالم کو کوئی ایسا کام کرتے دیکھیں جو پہلے ہمیں معلوم نہ ہو تو عالم سے اس کے بارے میں پوچھ لینا یا دلیل دریافت کرنا احترام کے منافی نہیں۔
(2)
عوام میں سے کوئی شخص اگر عالم کی کسی بات پر تنقید کرے تو عالم کو چاہیےکہ خفگی کا اظہار نہ کرے بلکہ مسئلے کی وضاحت کردے۔
(3)
یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے لیکن معناً درست ہے جس طرح کہ سابقہ روایت میں گزرا ہے۔
کسی عالم کو کوئی ایسا کام کرتے دیکھیں جو پہلے ہمیں معلوم نہ ہو تو عالم سے اس کے بارے میں پوچھ لینا یا دلیل دریافت کرنا احترام کے منافی نہیں۔
(2)
عوام میں سے کوئی شخص اگر عالم کی کسی بات پر تنقید کرے تو عالم کو چاہیےکہ خفگی کا اظہار نہ کرے بلکہ مسئلے کی وضاحت کردے۔
(3)
یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے لیکن معناً درست ہے جس طرح کہ سابقہ روایت میں گزرا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 511 سے ماخوذ ہے۔