سنن ابن ماجه
كتاب السنة— کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
بَابُ : اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ باب: بدعات اور جدال (بے جا بحث و تکرار) سے اجتناب و پرہیز۔
حدیث نمبر: 51
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ بَاطِلٌ ، بُنِيَ لَهُ قَصْرٌ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ ، وَمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ ، بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِهَا ، وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَةُ ، بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا اور وہ باطل پر تھا تو اس کے لیے جنت کے کناروں میں ایک محل بنایا جائے گا ، اور جس نے حق پر ہونے کے باوجود بحث اور کٹ حجتی چھوڑ دی اس کے لیے جنت کے بیچ میں محل بنایا جائے گا ، اور جس نے اپنے آپ کو حسن اخلاق سے مزین کیا اس کے لیے جنت کے اوپری حصہ میں محل بنایا جائے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بدعات اور جدال (بے جا بحث و تکرار) سے اجتناب و پرہیز۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا اور وہ باطل پر تھا تو اس کے لیے جنت کے کناروں میں ایک محل بنایا جائے گا، اور جس نے حق پر ہونے کے باوجود بحث اور کٹ حجتی چھوڑ دی اس کے لیے جنت کے بیچ میں محل بنایا جائے گا، اور جس نے اپنے آپ کو حسن اخلاق سے مزین کیا اس کے لیے جنت کے اوپری حصہ میں محل بنایا جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 51]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا اور وہ باطل پر تھا تو اس کے لیے جنت کے کناروں میں ایک محل بنایا جائے گا، اور جس نے حق پر ہونے کے باوجود بحث اور کٹ حجتی چھوڑ دی اس کے لیے جنت کے بیچ میں محل بنایا جائے گا، اور جس نے اپنے آپ کو حسن اخلاق سے مزین کیا اس کے لیے جنت کے اوپری حصہ میں محل بنایا جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 51]
اردو حاشہ: (1)
کسی بھی دینی یا دنیوی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اسے ختم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾ (النساء: 128)
’’صلح بہتر ہے۔‘‘
(2)
جب کوئی شخص اپنی غلطی محسوس کر لے تو اسے چاہیے کہ اس آیت کی تلاوت کرے تاکہ اختلاف ختم ہو جائے۔
یہ عمل اس قدر عظیم ہے کہ اس کی جزا کے طور پر جنت میں ایک محل ملے گا۔
(3)
دنیوی معاملات میں یہ ممکن ہے کہ انسان اپنا جائز حق چھوڑ کر جھگڑا ختم کر دے۔
باہمی اتفاق و اتحاد کے لیے دی گئی یہ قربانی اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت عظیم عمل ہے جس کا انعام یہ ہے کہ ایسے شخص کو جنت کے درمیان میں ایک عمدہ محل ملے گا۔
(4)
مسلمان کے اخلاق اعلیٰ درجے کے ہونے چاہئیں تاکہ روزمرہ کے معاملات خوش اسلوبی سے چلتے رہیں، خوش خلقی، برداشت اور نرم خوئی کی صفات سے مزین ہو کر لڑائی جھگڑے کے امکانات ہی ختم کر دیے جائیں۔
معاشرے میں اس قسم کے افراد جتنے زیادہ ہوں گے، اتنا ہی امن و امان زیادہ ہو گا، اس لیے ایسا شخص مذکورہ بالا دونوں قسم کے افراد سے بلند تر مقام کا حامل ہے اور جنت میں بھی اسے ان سے اعلیٰ تر مقام حاصل ہو گا۔
کسی بھی دینی یا دنیوی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اسے ختم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾ (النساء: 128)
’’صلح بہتر ہے۔‘‘
(2)
جب کوئی شخص اپنی غلطی محسوس کر لے تو اسے چاہیے کہ اس آیت کی تلاوت کرے تاکہ اختلاف ختم ہو جائے۔
یہ عمل اس قدر عظیم ہے کہ اس کی جزا کے طور پر جنت میں ایک محل ملے گا۔
(3)
دنیوی معاملات میں یہ ممکن ہے کہ انسان اپنا جائز حق چھوڑ کر جھگڑا ختم کر دے۔
باہمی اتفاق و اتحاد کے لیے دی گئی یہ قربانی اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت عظیم عمل ہے جس کا انعام یہ ہے کہ ایسے شخص کو جنت کے درمیان میں ایک عمدہ محل ملے گا۔
(4)
مسلمان کے اخلاق اعلیٰ درجے کے ہونے چاہئیں تاکہ روزمرہ کے معاملات خوش اسلوبی سے چلتے رہیں، خوش خلقی، برداشت اور نرم خوئی کی صفات سے مزین ہو کر لڑائی جھگڑے کے امکانات ہی ختم کر دیے جائیں۔
معاشرے میں اس قسم کے افراد جتنے زیادہ ہوں گے، اتنا ہی امن و امان زیادہ ہو گا، اس لیے ایسا شخص مذکورہ بالا دونوں قسم کے افراد سے بلند تر مقام کا حامل ہے اور جنت میں بھی اسے ان سے اعلیٰ تر مقام حاصل ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 51 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1993 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´تکرار کرنے اور لڑائی جھگڑے کی مذمت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص (جھگڑے کے وقت) جھوٹ بولنا چھوڑ دے حالانکہ وہ ناحق پر ہے، اس کے لیے اطراف جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا، جو شخص حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دے اس کے لیے جنت کے بیچ میں ایک مکان بنایا جائے گا اور جو شخص اپنے اخلاق اچھے بنائے اس کے لیے اعلیٰ جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1993]
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص (جھگڑے کے وقت) جھوٹ بولنا چھوڑ دے حالانکہ وہ ناحق پر ہے، اس کے لیے اطراف جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا، جو شخص حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دے اس کے لیے جنت کے بیچ میں ایک مکان بنایا جائے گا اور جو شخص اپنے اخلاق اچھے بنائے اس کے لیے اعلیٰ جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1993]
اردو حاشہ:
نوٹ:
سندمیں سلمہ بن وردان لیثی مدنی ضعیف راوی ہیں، صحیح الفاظ ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس طرح ہیں: (أنا زعیم ببیت في ربض الجنةِ لِمَنْ تَرَکَ المَزَاحَ وَ إِنْ کَانَ مُحِقًّا، و بیت فِي وَسطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَکَ الْکَذِبَ وَ إِن کَانَ مضازِحًا، وَ بَیْتٌ فِي اَعْلَی الْجَنَّۃ لِمَنْ حسن خُلُقه) (أبوداود رقم: 4800) تفصیل کے لیے دیکھیے الصحیحة: 273)
نوٹ:
سندمیں سلمہ بن وردان لیثی مدنی ضعیف راوی ہیں، صحیح الفاظ ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس طرح ہیں: (أنا زعیم ببیت في ربض الجنةِ لِمَنْ تَرَکَ المَزَاحَ وَ إِنْ کَانَ مُحِقًّا، و بیت فِي وَسطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَکَ الْکَذِبَ وَ إِن کَانَ مضازِحًا، وَ بَیْتٌ فِي اَعْلَی الْجَنَّۃ لِمَنْ حسن خُلُقه) (أبوداود رقم: 4800) تفصیل کے لیے دیکھیے الصحیحة: 273)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1993 سے ماخوذ ہے۔