سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : وُضُوءِ النَّوْمِ باب: سونے کے لیے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 508
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، سَمِعْتُ سُفْيَانَ ، يَقُولُ لِزَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ : يَا أَبَا الصَّلْتِ هَلْ سَمِعْتَ فِي هَذَا شَيْئًا ؟ فَقَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَدَخَلَ الْخَلَاءَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ ، ثُمَّ نَامَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے ، بیت الخلاء گئے اور قضائے حاجت کی ، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کو دھویا ، پھر سو گئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´سونے کے لیے وضو کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے، بیت الخلاء گئے اور قضائے حاجت کی، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر سو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 508]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے، بیت الخلاء گئے اور قضائے حاجت کی، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر سو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 508]
اردو حاشہ: (1)
سوتے وقت باوضو سونا باعث ثواب ہے۔ (صحیح البخاری، الوضوء، باب فضل من بات علی الوضوء، حدیث: 247 وصحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب مایقول عندالنوم وأخذ المضجع، حدیث: 2710)
لیکن باوضو سونا ضروری نہیں۔
ہاتھ منہ دھونا بھی کافی ہے بلکہ بے وضو سونے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ نہانے کی حاجت ہو۔
جیسے کہ حدیث: 581 تا583 میں ذکر ہوگا۔
سوتے وقت باوضو سونا باعث ثواب ہے۔ (صحیح البخاری، الوضوء، باب فضل من بات علی الوضوء، حدیث: 247 وصحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب مایقول عندالنوم وأخذ المضجع، حدیث: 2710)
لیکن باوضو سونا ضروری نہیں۔
ہاتھ منہ دھونا بھی کافی ہے بلکہ بے وضو سونے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ نہانے کی حاجت ہو۔
جیسے کہ حدیث: 581 تا583 میں ذکر ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 508 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 304 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات کو اٹھے اور قضائے حاجت کی، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:698]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: رات کو انسان اگر بہت جلد بیدار ہو جائے تو دوبارہ سو سکتا ہے جن حضرات نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے۔
ان کا مقصد یہ ہے کہ دوبارہ سو جانے کی صورت میں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے رات کے معمولات اور صبح کی نماز سے محروم ہو سکتا ہے اس لیے اس کو نہیں سونا چاہیے اگر یہ اندیشہ نہ ہو تو پھر سو سکتا ہے۔
ان کا مقصد یہ ہے کہ دوبارہ سو جانے کی صورت میں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے رات کے معمولات اور صبح کی نماز سے محروم ہو سکتا ہے اس لیے اس کو نہیں سونا چاہیے اگر یہ اندیشہ نہ ہو تو پھر سو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 304 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5043 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´باوضو سونے کی فضیلت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے پھر اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے، پھر اپنا ہاتھ منہ دھویا، پھر سو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کا مطلب ہے پیشاب کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5043]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے پھر اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے، پھر اپنا ہاتھ منہ دھویا، پھر سو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کا مطلب ہے پیشاب کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5043]
فوائد ومسائل:
باوضو ہوکرسونے کے معنی یہ ہیں کہ رات کے ابتدائی حصے میں وضو کرکے بستر پر جانے کے علاوہ اگر رات کے کسی حصے میں جاگے اور قضائے حاجت وغیرہ کے لئے جائے تو دوبارہ بھی مسنون وضو کرکے سوئے تو یہ بہت ہی افضل عمل ہے۔
باوضو ہوکرسونے کے معنی یہ ہیں کہ رات کے ابتدائی حصے میں وضو کرکے بستر پر جانے کے علاوہ اگر رات کے کسی حصے میں جاگے اور قضائے حاجت وغیرہ کے لئے جائے تو دوبارہ بھی مسنون وضو کرکے سوئے تو یہ بہت ہی افضل عمل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5043 سے ماخوذ ہے۔