سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : الْمَضْمَضَةِ مِنْ شُرْبِ اللَّبَنِ باب: دودھ پی کر کلی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 501
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّوَّاقُ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " حَلَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً وَشَرِبَ مِنْ لَبَنِهَا ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ فَاهُ ، وَقَالَ : إِنَّ لَهُ دَسَمًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری دودھ کر دودھ پیا ، پھر پانی منگوا کر کلی کی اور فرمایا : ” اس میں چکناہٹ ہوتی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 197 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دودھ پی کرکلی کر لینا مستحب`
«. . . أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا، فَلَمْ يُمَضْمِضْ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَصَلَّى . . .»
”. . . انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا پھر نہ کلی کی اور نہ (دوبارہ) وضو کیا اور نماز پڑھی . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 197]
«. . . أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا، فَلَمْ يُمَضْمِضْ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَصَلَّى . . .»
”. . . انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا پھر نہ کلی کی اور نہ (دوبارہ) وضو کیا اور نماز پڑھی . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 197]
فوائد و مسائل:
دودھ پی کر کلی کر لینا مستحب اور افضل ہے، نہ بھی کرے تو جائز ہے۔
دودھ پی کر کلی کر لینا مستحب اور افضل ہے، نہ بھی کرے تو جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 197 سے ماخوذ ہے۔