سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کا بیان۔
حدیث نمبر: 497
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ هُبَيْرَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ :" تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ ، وَلَا تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ، وَتَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ ، وَلَا تَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ ، وَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الإِبِلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اونٹ کے گوشت سے وضو کر لیا کرو ، اور بکری کے گوشت سے وضو نہ کرو ، اور اونٹنی کے دودھ سے وضو کیا کرو ، اور بکری کے دودھ سے وضو نہ کرو ، بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھو ، اور اونٹ کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: آگ پر پکی دیگر چیزوں کے استعمال سے وضو ضروری نہیں ہے، لیکن اونٹ کے گوشت کا معاملہ جدا ہے، اسی لئے شریعت نے اس کو الگ ذکر کیا ہے، اب ہماری سمجھ میں اس کی مصلحت آئے یا نہ آئے ہمیں فرماں برداری کرنا ضروری ہے۔