سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 493
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ فَمَضْمَضَ ، وَغَسَلَ يَدَيْهِ ، وَصَلَّى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت کھایا ، پھر کلی کی ، اور اپنے ہاتھ دھو کر نماز پڑھی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس باب کی احادیث سے پچھلے باب کی احادیث منسوخ ہیں، یا پچھلے باب کی احادیث میں وضو سے مراد ہاتھ وغیرہ دھونا ہے ناکہ شرعی وضو۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 194 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو`
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوُضُوءُ مِمَّا أَنْضَجَتِ النَّارُ . . .»
". . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو ہے . . ." [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 194]
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوُضُوءُ مِمَّا أَنْضَجَتِ النَّارُ . . .»
". . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو ہے . . ." [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 194]
فوائد و مسائل:
آگ پر پکی چیزوں سے وضو ابتدائے اسلام کا حکم تھا جو کہ منسوخ ہو گیا جیسے کہ پچھلی حدیث میں مذکور ہے۔
آگ پر پکی چیزوں سے وضو ابتدائے اسلام کا حکم تھا جو کہ منسوخ ہو گیا جیسے کہ پچھلی حدیث میں مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 194 سے ماخوذ ہے۔