سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ باب: جاگنے کے بعد وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 477
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعَيْنُ وِكَاءُ السَّهِ ، فَمَنْ نَامَ فَلْيَتَوَضَّأْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آنکھ سرین کا بندھن ہے ، لہٰذا جو سو جائے وہ وضو کرے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جاگنے کے بعد وضو کرنے کا بیان۔`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آنکھ سرین کا بندھن ہے، لہٰذا جو سو جائے وہ وضو کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 477]
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آنکھ سرین کا بندھن ہے، لہٰذا جو سو جائے وہ وضو کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 477]
اردو حاشہ: (1)
تھیلی میں اشرفیاں وغیرہ ڈال کراس کا منہ جس دھاگے یا رسی وغیرہ سے باندھا جاتا ہے اسے وِکَاء کہتے تھے۔
جب تک وِکَاء نہ کھولا جائے تھیلی میں سے کوئی چیز نہیں نکل سکتی۔
گویا وہ تھیلی کے اندر کی چیزوں کا محافظ ہے۔
اسی طرح بیداری کی حالت میں انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا وضو قائم ہے یا ہوا خارج ہونے کی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے۔
جب آنکھیں نیند سے بند ہوجائیں تو جسم پر کنٹرول نہیں رہتا گویا بندھن کھل جاتا ہےاور ہوا خارج ہونے کا احساس نہیں ہوتا، اسلیے نیند ہی کو وضو توڑنے والا قراردیا گیا ہے۔
(2)
نیند عام حالات میں وضو ٹوٹنے کا باعث بنتی ہے اس لیے نیند سے وضو کا حکم دیا گیا ہے۔
اسی طرح شریعت میں بعض دوسرے احکام میں بھی ایک چیز کا باعث بننے والی شے کو اسی چیز والا حکم دے دیا جاتا ہے تاکہ انسان شکوک وشبہات کا شکار نہ رہے، مثلاً: ایک مشروب زیادہ مقدار میں پینے سے نشہ ہوتا ہے تو اس کی کم مقدار کو بھی حرام قراردیا گیا ہے۔
تاکہ ایسا نہ ہو انسان یہ تصور کرے کہ فلان شراب کا ایک گلاس پینے سے نشہ نہیں ہوگا، پھر یہ سوچ کر ایک گلاس پی لے اور اسے نشہ ہوجائے، اس لیے ایک گلاس بھی حرام ہے اگرچہ نشہ نہ ہو۔
(3)
شیخ البانی ؒ نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔
تھیلی میں اشرفیاں وغیرہ ڈال کراس کا منہ جس دھاگے یا رسی وغیرہ سے باندھا جاتا ہے اسے وِکَاء کہتے تھے۔
جب تک وِکَاء نہ کھولا جائے تھیلی میں سے کوئی چیز نہیں نکل سکتی۔
گویا وہ تھیلی کے اندر کی چیزوں کا محافظ ہے۔
اسی طرح بیداری کی حالت میں انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا وضو قائم ہے یا ہوا خارج ہونے کی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے۔
جب آنکھیں نیند سے بند ہوجائیں تو جسم پر کنٹرول نہیں رہتا گویا بندھن کھل جاتا ہےاور ہوا خارج ہونے کا احساس نہیں ہوتا، اسلیے نیند ہی کو وضو توڑنے والا قراردیا گیا ہے۔
(2)
نیند عام حالات میں وضو ٹوٹنے کا باعث بنتی ہے اس لیے نیند سے وضو کا حکم دیا گیا ہے۔
اسی طرح شریعت میں بعض دوسرے احکام میں بھی ایک چیز کا باعث بننے والی شے کو اسی چیز والا حکم دے دیا جاتا ہے تاکہ انسان شکوک وشبہات کا شکار نہ رہے، مثلاً: ایک مشروب زیادہ مقدار میں پینے سے نشہ ہوتا ہے تو اس کی کم مقدار کو بھی حرام قراردیا گیا ہے۔
تاکہ ایسا نہ ہو انسان یہ تصور کرے کہ فلان شراب کا ایک گلاس پینے سے نشہ نہیں ہوگا، پھر یہ سوچ کر ایک گلاس پی لے اور اسے نشہ ہوجائے، اس لیے ایک گلاس بھی حرام ہے اگرچہ نشہ نہ ہو۔
(3)
شیخ البانی ؒ نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 477 سے ماخوذ ہے۔