حدیث نمبر: 472
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، أَنَّهُ كَانَ لَهَا مِخْضَبٌ مِنْ صُفْرٍ ، قَالَتْ : " فَكُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میرے پاس پیتل کی ایک تھال تھی جس میں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی کیا کرتی تھی ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اس میں پانی ڈال کر۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 472
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 15882 ، ومصباح الزجاجة : 193 ) ، مسند احمد ( 6/ 224 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´پیتل کے برتن سے وضو کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس پیتل کی ایک تھال تھی جس میں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی کیا کرتی تھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 472]
اردو حاشہ:
معلوم ہوا کہ پیتل کے برتن میں پانی ڈال کر رکھا جا سکتا ہے لہٰذا اس سے وضو بھی جائز ہے-
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 472 سے ماخوذ ہے۔