حدیث نمبر: 462
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ ، عَنْ أَبِيِه زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَّمَنِي جِبْرَائِيلُ الْوُضُوءَ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَنْضَحَ تَحْتَ ثَوْبِي لِمَا يَخْرُجُ مِنَ الْبَوْلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جبرائیل ( علیہ السلام ) نے مجھے وضو سکھایا ، اور مجھے اپنے کپڑے کے نیچے ( شرمگاہ ) پر چھینٹے مارنے کا حکم دیا کہ کہیں وضو کے بعد پیشاب کا کوئی قطرہ نہ آ گیا ہو ( تاکہ چھینٹے مارنے سے یہ شبہ زائل ہو جائے ) “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: غرض یہ ہے کہ پانی چھڑکنے سے پیشاب کا قطرہ رک جائے گا اور نہ نکلے گا اور وجہ اس کی یہ ہے کہ احلیل مرد کا عورت کی طرح ہے، اور گائے وغیرہ کی چھاتی کی طرح ہے، جب پستان میں دودھ کو روکنا منظور ہوتا ہے، تو پانی چھڑک دیتے ہیں، اسی طرح شرم گاہ پر چھڑکنے سے قطرہ رک جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 462
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن دون الأمر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن لهيعة عنعن, وقال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة‘‘ ورواه رشدين عن عقيل عن الزهري به وحديث أبي داود (السنن: 166) يُغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 394
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3745 ، ومصباح الزجاجة : 189 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/161 ) ( حسن ) » ( سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں ، اور روایت عنعنہ سے کی ہے ، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر حسن ہے لیکن «وأمرني أن أنضح تحت ثوبي» کا لفظ ضعیف ہے اس کا کوئی شاہد نہیں ہے ، البتہ فعل نبوی سے یہ ثابت ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 1341 ، و سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 841 ، صحیح أبی داود : 159 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´وضو کے بعد ستر پر چھینٹے مارنے کا بیان۔`
زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے وضو سکھایا، اور مجھے اپنے کپڑے کے نیچے (شرمگاہ) پر چھینٹے مارنے کا حکم دیا کہ کہیں وضو کے بعد پیشاب کا کوئی قطرہ نہ آ گیا ہو (تاکہ چھینٹے مارنے سے یہ شبہ زائل ہو جائے) " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 462]
اردو حاشہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے البتہ دوسری احادیث سے جبرئیل علیہ السلام کا نبیﷺ کو وضو کی تعلیم دینا ثابت ہے۔
اور اسی طرح وضو کے بعد شرم گاہ والی جگہ پر چھینٹے مارنا بھی دیگر صحیح اور حسن درجے کی احادیث سے ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 462 سے ماخوذ ہے۔