سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ عَلَى مَا أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى باب: اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 459
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمْرَانَ يُحَدِّثُ ، أَبَا بُرْدَةَ فِي الْمَسْجِدِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ فَالصَّلَوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کامل وضو کیا ، تو اس کی فرض نماز ایک نماز سے دوسری نماز تک کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وضو کرنے کا بیان۔`
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کامل وضو کیا، تو اس کی فرض نماز ایک نماز سے دوسری نماز تک کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 459]
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کامل وضو کیا، تو اس کی فرض نماز ایک نماز سے دوسری نماز تک کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 459]
اردو حاشہ:
فلئدہ: اس قسم کی احادیث سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ نمازی جتنے بھی گناہ کرتا رہے کوئی حرج نہیں کیونکہ نماز کے آداب اور خشوع وخضوع میں کمی سے گناہوں کی معافی میں بھی کمی آجاتی ہے۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی برے گناہ کی وجہ سے نماز کی توفیق ہی نہ حاصل رہے بلکہ بعض اوقات نماز اتنی ناقص ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان اللہ تعالی كا قرب حاصل کرنے کے بجائے اللہ تعالی کو مزید ناراض کرلیتا ہے۔
فلئدہ: اس قسم کی احادیث سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ نمازی جتنے بھی گناہ کرتا رہے کوئی حرج نہیں کیونکہ نماز کے آداب اور خشوع وخضوع میں کمی سے گناہوں کی معافی میں بھی کمی آجاتی ہے۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی برے گناہ کی وجہ سے نماز کی توفیق ہی نہ حاصل رہے بلکہ بعض اوقات نماز اتنی ناقص ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان اللہ تعالی كا قرب حاصل کرنے کے بجائے اللہ تعالی کو مزید ناراض کرلیتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 459 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 231 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حمران بن ابان بیان کرتے ہیں: میں عثمان ؓ کے وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا، وہ ہر دن کچھ پانی سے غسل فرماتے تھے۔ عثمان ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس نماز سے (مسعر نے کہا: میرا خیال ہے عصر مراد ہے) سلام پھیرنے کے بعد کہا: ’’میں نہیں جانتا تم سے کچھ بیان کروں یا چپ رہوں؟‘‘ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! اگر بہتری و بھلائی کی بات ہے، تو ہمیں بتا دیجیے! اور اگر کچھ اور ہے، تو اللہ اور اس کا رسول ؐہی بہتر... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:546]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: (1)
نُطْفَةٌ: تھوڑا سا پانی۔
(2)
يُفِيضُ عَلَيْهِ: اپنے اوپر بہاتے، یعنی غسل کرتے۔
(3)
مَا أَدْرِي: میں فیصلہ نہیں کر پایا، کہ اس بات کو بیان کرنا مفید ہے یا نہیں، پھر آپ ﷺنے یہی بہتر سمجھا، کہ طہارت و نماز کی ترغیب و تشویق کے لیے اس کو بیان کر دیا جائے۔
: (1)
نُطْفَةٌ: تھوڑا سا پانی۔
(2)
يُفِيضُ عَلَيْهِ: اپنے اوپر بہاتے، یعنی غسل کرتے۔
(3)
مَا أَدْرِي: میں فیصلہ نہیں کر پایا، کہ اس بات کو بیان کرنا مفید ہے یا نہیں، پھر آپ ﷺنے یہی بہتر سمجھا، کہ طہارت و نماز کی ترغیب و تشویق کے لیے اس کو بیان کر دیا جائے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 546 سے ماخوذ ہے۔