حدیث نمبر: 457
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، اور اپنے دونوں پیروں کو تین تین بار دھویا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 457
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11574 ، ومصباح الزجاجة : 187 ) ، مسند احمد ( 4/132 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 121 | سنن ابي داود: 122 | سنن ابن ماجه: 442

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 121 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
کانوں کے اندر اور باہر کا مسح
9: پھر اپنے دونوں کانوں (کے اندر باہر) کا مسح ایک دفعہ کریں۔ [النسائي 1/73 ح101 وسنده حسن، سنن ابي داود: 121 وسنده حسن، 137 وسنده حسن، ابن خزيمه: 151، 167 وسنده حسن والزيادة منه، عامر بن شقيق حسن الحديث وثقه الجمهور، مصنف ابن ابي شيبه 1/ 18 ح 176 وسنده حسن، السنن الكبريٰ للنسائي: 161]

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما کانوں کے اندر اور باہر کا مسح کرتے تھے۔ [السنن الكبريٰ للبيهقي ج 1 ص 64 وسنده صحيح]

. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
تحقیقی و علمی مقالات للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ (جلد 2 صفحہ 200 تا 204)
درج بالا اقتباس تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 200 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 122 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´گردن کا مسح علیحدہ سے ثابت نہیں`
«. . . عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، فَلَمَّا بَلَغَ مَسْحَ رَأْسِهِ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ فَأَمَرَّهُمَا حَتَّى بَلَغَ الْقَفَا ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ . . .»
. . . مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کے مسح پر پہنچے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا، پھر انہیں پھیرتے ہوئے گدی تک پہنچے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے مسح شروع کیا تھا . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 122]
فوائد و مسائل:
گردن کا مسح علیحدہ سے ثابت نہیں ہے بلکہ سر کا مسح کرتے ہوئے ہاتھوں کو گدی تک لے جانا ہی ثابت ہے اور یہی عمل مسنون اور ماجور ہے۔ ہاتھوں کو ایک بار پیچھے لے جانا اور پھر واپس شروع کی جگہ پر لے آنا سب ایک ہی مسح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 122 سے ماخوذ ہے۔