سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : غَسْلِ الْعَرَاقِيبِ باب: ایڑیوں کے دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 452
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : رَأَتْ عَائِشَةُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ ، فَقَالَتْ : أَسْبِغْ الْوُضُوءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسلمہ کہتے ہیں کہ` ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( اپنے بھائی ) عبدالرحمٰن کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو کہا : وضو مکمل کیا کرو ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” ایٹریوں کو دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ایڑیوں کے دھونے کا بیان۔`
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے (اپنے بھائی) عبدالرحمٰن کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو کہا: وضو مکمل کیا کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” ایٹریوں کو دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 452]
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے (اپنے بھائی) عبدالرحمٰن کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو کہا: وضو مکمل کیا کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” ایٹریوں کو دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 452]
اردو حاشہ:
حدیث میں’’عراقيب‘‘ كا لفظ ہےجو ’’عرقوب‘‘ کی جمع ہے۔
اس سے مراد دونوں ٹخنوں کے درمیان کا پچھلے والا وہ حصہ ہےجو ایڑی سے اوپر ہوتا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا ضروری ہیں اور پیچھے سے بھی اسی کے برابر پاؤں دھونے چاہییں۔
حدیث میں’’عراقيب‘‘ كا لفظ ہےجو ’’عرقوب‘‘ کی جمع ہے۔
اس سے مراد دونوں ٹخنوں کے درمیان کا پچھلے والا وہ حصہ ہےجو ایڑی سے اوپر ہوتا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا ضروری ہیں اور پیچھے سے بھی اسی کے برابر پاؤں دھونے چاہییں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 452 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 161 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
C
فائدہ:
وضو مکمل کرنا چاہیے، وضو کے اعضاء سے ذرہ بھر جگہ بھی خشک نہیں رہنی چاہیے، ورنہ وضو نہیں ہوگا۔ جب وضو ہی نہیں ہوا تو نماز بھی نہیں ہوگی، جب نماز نہیں ہوئی تو انسان جہنم میں جائے گا۔ خلیفہ کو لوگوں کے وضو پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ کہیں وہ وضو غلط تو نہیں کر رہے۔ ہمارے دور میں ہمیں کچھ ایسے لوگوں سے واسطہ ہے جو دین سے دور ہیں، اور وضو، نماز اور دیگر اعمال کو حقیر سمجھتے ہیں، اور اس پر علمائے کرام پر طنز کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت دے۔ وضو میں پاؤں کی ایڑیوں کو بھی دھونا چاہیے، یہ بھی پاؤں سے ہی ہیں، اور وضو میں پاؤں پر مسح باطل ہے اور دھونا فرض ہے، جرابوں اور موزوں پر مسح کرنا درست ہے۔
وضو مکمل کرنا چاہیے، وضو کے اعضاء سے ذرہ بھر جگہ بھی خشک نہیں رہنی چاہیے، ورنہ وضو نہیں ہوگا۔ جب وضو ہی نہیں ہوا تو نماز بھی نہیں ہوگی، جب نماز نہیں ہوئی تو انسان جہنم میں جائے گا۔ خلیفہ کو لوگوں کے وضو پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ کہیں وہ وضو غلط تو نہیں کر رہے۔ ہمارے دور میں ہمیں کچھ ایسے لوگوں سے واسطہ ہے جو دین سے دور ہیں، اور وضو، نماز اور دیگر اعمال کو حقیر سمجھتے ہیں، اور اس پر علمائے کرام پر طنز کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت دے۔ وضو میں پاؤں کی ایڑیوں کو بھی دھونا چاہیے، یہ بھی پاؤں سے ہی ہیں، اور وضو میں پاؤں پر مسح باطل ہے اور دھونا فرض ہے، جرابوں اور موزوں پر مسح کرنا درست ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 161 سے ماخوذ ہے۔