سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ باب: وضو کے باب میں کان سر میں داخل ہے۔
حدیث نمبر: 444
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ ، وَكَانَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ مَرَّةً ، وَكَانَ يَمْسَحُ الْمَأْقَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( وضو کے باب میں ) دونوں کان سر میں داخل ہیں “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کا مسح ایک بار کرتے تھے ، اور گوشہ چشم پر بھی انگلی پھیرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 37 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´وضو میں دونوں کانوں کے سر میں داخل ہونے کا بیان۔`
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا تو اپنا چہرہ تین بار دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا اور فرمایا: ” دونوں کان سر میں داخل ہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 37]
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا تو اپنا چہرہ تین بار دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا اور فرمایا: ” دونوں کان سر میں داخل ہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 37]
اردو حاشہ:
1؎:
یہی قول راجح ہے۔
2؎:
یہ شعبی اور حسن بن صالح اور ان کے اتباع کا مذہب ہے۔
3؎:
امام ترمذی نے یہاں صرف تین مذاہب کا ذکر کیا ہے، ان تینوں کے علاوہ اور بھی مذاہب ہیں، انہیں میں سے ایک مذہب یہ ہے کہ دونوں کان چہرے میں سے ہیں، لہذا یہ چہرے کے ساتھ دھوئے جائیں گے، اسی طرف امام زہری اور داود ظاہری گئے ہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ انہیں چہرے کے ساتھ دھویا جائے اور سر کے ساتھ ان کا مسح کیا جائے۔
1؎:
یہی قول راجح ہے۔
2؎:
یہ شعبی اور حسن بن صالح اور ان کے اتباع کا مذہب ہے۔
3؎:
امام ترمذی نے یہاں صرف تین مذاہب کا ذکر کیا ہے، ان تینوں کے علاوہ اور بھی مذاہب ہیں، انہیں میں سے ایک مذہب یہ ہے کہ دونوں کان چہرے میں سے ہیں، لہذا یہ چہرے کے ساتھ دھوئے جائیں گے، اسی طرف امام زہری اور داود ظاہری گئے ہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ انہیں چہرے کے ساتھ دھویا جائے اور سر کے ساتھ ان کا مسح کیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 37 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 134 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´وضو میں آنکھوں کےکنارے`
«. . . عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَذَكَرَ وُضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْمَأْقَيْنِ، قَالَ: وَقَالَ: الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ . . .»
”. . . ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو (کی کیفیت) کا ذکر کیا اور فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناک کے قریب دونوں آنکھوں کے کناروں کا مسح فرماتے تھے، ابوامامہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں کان سر میں داخل ہیں . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 134]
«. . . عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَذَكَرَ وُضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْمَأْقَيْنِ، قَالَ: وَقَالَ: الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ . . .»
”. . . ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو (کی کیفیت) کا ذکر کیا اور فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناک کے قریب دونوں آنکھوں کے کناروں کا مسح فرماتے تھے، ابوامامہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں کان سر میں داخل ہیں . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 134]
فوائد و مسائل:
آنکھوں کے کنارے جلدی تہوں کے باعث خشک رہ سکتے ہیں اس لیے ان کو مسلنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ یہ روایت شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک «مسح المأقين» ”آنکھوں کے کویوں“ کے اضافے کے بغیر صحیح ہے۔
آنکھوں کے کنارے جلدی تہوں کے باعث خشک رہ سکتے ہیں اس لیے ان کو مسلنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ یہ روایت شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک «مسح المأقين» ”آنکھوں کے کویوں“ کے اضافے کے بغیر صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 134 سے ماخوذ ہے۔