سنن ابن ماجه
كتاب السنة— کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
بَابُ : اتِّبَاعِ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ باب: ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کی اتباع۔
حدیث نمبر: 44
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَال : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی ، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے ، اور ہمیں ایک مؤثر نصیحت کی ، پھر راوی نے سابقہ حدیث جیسی حدیث ذکر کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کی اتباع۔`
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے، اور ہمیں ایک مؤثر نصیحت کی، پھر راوی نے سابقہ حدیث جیسی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 44]
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے، اور ہمیں ایک مؤثر نصیحت کی، پھر راوی نے سابقہ حدیث جیسی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 44]
اردو حاشہ: (1)
نماز کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھنا مسنون ہے۔
(2)
وعظ و نصیحت کے لیے فرض نماز کے بعد کا وقت مناسب ہے، کیونکہ اس موقع پر مسلمان جمع ہوتے ہیں اور توجہ سے امام کی بات سنتے ہیں۔
تاہم وعظ اس قدر طویل نہیں ہونا چاہیے کہ سامعین اکتاہٹ محسوس کرنے لگیں۔
نماز کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھنا مسنون ہے۔
(2)
وعظ و نصیحت کے لیے فرض نماز کے بعد کا وقت مناسب ہے، کیونکہ اس موقع پر مسلمان جمع ہوتے ہیں اور توجہ سے امام کی بات سنتے ہیں۔
تاہم وعظ اس قدر طویل نہیں ہونا چاہیے کہ سامعین اکتاہٹ محسوس کرنے لگیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 44 سے ماخوذ ہے۔