حدیث نمبر: 4341
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا لَهُ مَنْزِلَانِ , مَنْزِلٌ فِي الْجَنَّةِ , وَمَنْزِلٌ فِي النَّارِ , فَإِذَا مَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ , وَرِثَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْزِلَهُ , فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى أُولَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ سورة المؤمنون آية 10 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک کے دو ٹھکانے ہیں : ایک ٹھکانا جنت میں اور ایک ٹھکانا جہنم میں ، جب وہ مرتا ہے اور جہنم میں چلا جاتا ہے تو جنت والے اس کے حصے کو لاوارث سمجھ کر لے لیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کے قول : «أولئك هم الوارثون» ” یہی لوگ وارث ہوں گے “ ( سورة المومنون : 1 ) کا یہی مطلب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4341
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف, سليمان الأعمش عنعن (تقدم:94) و حديث البخاري (6569 ، 1379) مسلم (2866) يغني عنه ?
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12545 ، ومصباح الزجاجة : 1553 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جنت کے احوال و صفات کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کے دو ٹھکانے ہیں: ایک ٹھکانا جنت میں اور ایک ٹھکانا جہنم میں، جب وہ مرتا ہے اور جہنم میں چلا جاتا ہے تو جنت والے اس کے حصے کو لاوارث سمجھ کر لے لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے قول: «أولئك هم الوارثون» یہی لوگ وارث ہوں گے (سورة المومنون: 1) کا یہی مطلب ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4341]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہر شخص کا گھر جنت میں بھی ہے اور جہنم میں بھی اس سے اللہ تعالی کے بے مثال عدل اور بے انتہا رحمت کا پتہ چلتا ہے۔

(2)
ہر مرنے والے کو یہ گھر اس وقت دکھائے جاتے ہیں جب وہ قبر میں پہنچتا ہے۔ دیکھیے:   (حدیث 4268)

(3)
جہنم میں جانے والے کا گھر جنت میں خالی رہ جاتا ہے وہ کسی جنتی کو دے دیا جاتا ہے یہ بھی اللہ کی رحمت اور اس کے فضل کا ا ظہار ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4341 سے ماخوذ ہے۔