حدیث نمبر: 4340
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ الْجَنَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , قَالَتِ الْجَنَّةُ : اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ , وَمَنِ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , قَالَتِ النَّارُ : اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے تین بار جنت مانگی تو جنت نے کہا : اے اللہ ! اسے جنت میں داخل فرما ، اور جس نے تین بار جہنم سے پناہ مانگی تو جہنم نے کہا : اے اللہ ! اس کو جہنم سے پناہ دے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4340
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «سنن الترمذی/صفة الجنة 27 ( 2572 ) ، سنن النسائی/ الاستعاذة 55 ( 5523 ) ، ( تحفة الأشراف : 243 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2572 | سنن نسائي: 5523

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جنت کے احوال و صفات کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین بار جنت مانگی تو جنت نے کہا: اے اللہ! اسے جنت میں داخل فرما، اور جس نے تین بار جہنم سے پناہ مانگی تو جہنم نے کہا: اے اللہ! اس کو جہنم سے پناہ دے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4340]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دعا تین بار مانگنا مسنون ہے۔

(2)
اللہ سے جنت میں داخلے کی اور جہنم سے پناہ کی دعا مانگتے رہنا چاہیے۔

(3)
جنت اور جہنم اللہ کے حکم کے بغیر کسی کے حق میں دعا نہیں کرتیں اس لیے ان کے دعا کرنے سے معلام ہوتا ھے کہ اللہ تعالی ان کی دعا قبول کرکے اس شخص کو جنت میں داخل کرنا چاہتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4340 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5523 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جہنم کی آگ کی گرمی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جس نے تین بار اللہ تعالیٰ سے جنت مانگی تو جنت کہے گی: اے اللہ! اسے جنت میں داخل کر دے اور جس نے تین بار جہنم سے پناہ مانگی تو جہنم کہے گی: اے اللہ! اسے جہنم سے بچا لے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5523]
اردو حاشہ: جنت جہنم اورآگ وغیرہ اللہ تعالی کی مخلوق ہیں۔ وہ اللہ تعالی سے باتیں کرتی ہیں۔ اللہ تعالی ان سے باتیں فرماتا ہے۔ اس پر کسی کوکوئی اعتراض نہیں ہونا چاہییے اورنہ کوئی تکلیف۔ ارشاد باری تعالی ہے: ﴿وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ﴾ (بني إسرائیل: 44:17) یہاں حال و قال کی بحث کی ضرورت نہیں۔ یہ خالق ومخلوق کامعاملہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5523 سے ماخوذ ہے۔