حدیث نمبر: 4338
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ , عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ إِذَا اشْتَهَى الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ , كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ كَمَا يَشْتَهِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن جب جنت میں اولاد کی خواہش کرے گا ، تو حمل اور وضع حمل اس کی خواہش کے موافق سب ایک گھڑی میں ہو جائے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4338
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «سنن الترمذی/صفة الجنة 23 ( 2563 ) ، ( تحفة الأشراف : 3977 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/8009 ) ، سنن الدارمی/الرقاق 110 ( 2876 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2563

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جنت کے احوال و صفات کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن جب جنت میں اولاد کی خواہش کرے گا، تو حمل اور وضع حمل اس کی خواہش کے موافق سب ایک گھڑی میں ہو جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4338]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جنت میں اسباب و نتائج کا وہ سلسلہ نہیں جو اللہ نے دنیا مین قائم کیا ہے۔
اس لیے ہر خواہش کی تکمیل فورا ہو جائے گی۔

(2)
اللہ تعالی جسے چاہے بغیر اعمال کے جنت میں داخل کر سکتا ہے۔
جیسے جنت کی حوریں اور خادم غلمان وہیں پیدا کیے گئے ہیں۔
اسی طرح جنت میں پیدا ہو نے والا بچہ پیدائشی جنتی ھو گا۔

(3)
جنت میں داخل کرنا اللہ کا فضل ہے اور سبب کے لیے ضروری نہیں کہ اس کا کوئی سبب یا عمل وغیرہ ہو۔
جبکہ جہنم میں داخلہ ایک سزا ہے اور سزا بغیر جرم کے نہیں ملتی لہٰذا کسی کو بغیر جرم کے جہنم میں داخل نہیں کیا جائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4338 سے ماخوذ ہے۔