حدیث نمبر: 4327
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , فَيُوقَفُ عَلَى الصِّرَاطِ , فَيُقَالُ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ , فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ وَجِلِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمُ الَّذِي هُمْ فِيهِ , ثُمَّ يُقَالُ : يَا أَهْلَ النَّارِ , فَيَطَّلِعُونَ مُسْتَبْشِرِينَ فَرِحِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمُ الَّذِي هُمْ فِيهِ , فَيُقَالُ : هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ , هَذَا الْمَوْتُ , قَالَ : فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ عَلَى الصِّرَاطِ , ثُمَّ يُقَالُ لِلْفَرِيقَيْنِ كِلَاهُمَا : خُلُودٌ فِيمَا تَجِدُونَ , لَا مَوْتَ فِيهَا أَبَدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا ، اور پل صراط پر کھڑا کیا جائے گا ، پھر کہا جائے گا : اے جنت والو ! تو وہ خوف زدہ اور ڈرے ہوئے اوپر چڑھیں گے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو ان کے مقام سے نکال دیا جائے ، پھر پکارا جائے گا : اے جہنم والو ! تو وہ خوش خوش اوپر آئیں گے کہ وہ اپنے مقام سے نکالے جا رہے ہیں ، پھر کہا جائے گا : کیا تم اس کو جانتے ہو ؟ وہ کہیں گے : ہاں ، یہ موت ہے ، فرمایا : پھر حکم ہو گا تو وہ پل صراط پر ذبح کر دی جائے گی ، پھر دونوں گروہوں سے کہا جائے گا : اب دونوں گروہ اپنے اپنے مقام میں ہمیشہ رہیں گے ، اور موت کبھی نہیں آئے گی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4327
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5102 ، ومصباح الزجاجة : 1548 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الرقاق 50 ( 6545 ) ، مسند احمد ( 2/261 ، 377 ، 513 ) ، سنن الدارمی/الرقاق 90 ( 2853 ) ( حسن صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6545

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جہنم کے احوال و صفات کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا، اور پل صراط پر کھڑا کیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! تو وہ خوف زدہ اور ڈرے ہوئے اوپر چڑھیں گے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو ان کے مقام سے نکال دیا جائے، پھر پکارا جائے گا: اے جہنم والو! تو وہ خوش خوش اوپر آئیں گے کہ وہ اپنے مقام سے نکالے جا رہے ہیں، پھر کہا جائے گا: کیا تم اس کو جانتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے، فرمایا: پھر حکم ہو گا تو وہ پل صراط پر ذبح کر دی جائے گی، پھر دونوں گروہوں سے کہا جائے گا: اب دونوں گروہ اپنے اپن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4327]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
موت ایک وجودی چیز ہے جو قیامت کے دن ایک محسوس شکل میں سامنے آئے گی۔

(2)
موت کو محسوس شکل میں ظاہر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو موت کے ختم ہوجانے میں کوئی شک نہ رہے۔

(3)
موت کا ذبح ہوجانا اھل جنت کے لیے مزید خوشی کا باعث ہو گا۔
اور اہل جہنم کے لیے مزید غم کا باعث ہوگا۔

(4)
یہ اعلان اس وقت کیا جائے گا جب شفاعت کی وجہ سے نجات پانے والے جنت میں جا چکیں گے اور جہنم میں صرف وہی باقی رہ جائیں گے جن کے لیے خلود کا فیصلہ ہو چکا ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4327 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6545 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6545. حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اہل جنت سے کہا جائے گا: اے اہل جنت! تم نے یہاں ہمیشہ رہنا ہے تمہیں موت نہیں آئے گی اور اہل دوزخ! تمہیں بھی ہمیشہ یہیں رہنا ہے تمہیں موت نہیں آئے گی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6545]
حدیث حاشیہ:
(1)
صحیح بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب اہل جنت، جنت میں اور اہل جہنم، جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو ان کے درمیان لا کر ذبح کر دیا جائے گا، پھر مذکورہ اعلان کیا جائے گا تاکہ اہل جنت کو انتہائی فرحت اور اہل جہنم کو انتہائی غم ہو۔
(صحیح البخاري، الرقاق، حدیث: 6548) (2)
ان احادیث کو اس عنوان کے تحت ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو انسان بھی جنت میں داخل ہو گا وہ چند دن کا مہمان نہیں بلکہ اس میں ہمیشہ رہے گا، البتہ اس میں پہلے پہلے بلا حساب کتاب داخل ہونے والوں کو ایک اضافی برتری حاصل ہو گی کہ انہیں حساب کتاب کے سخت کمر توڑ مرحلے سے نہیں گزرنا پڑے گا۔
(فتح الباري: 504/11)
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6545 سے ماخوذ ہے۔