حدیث نمبر: 4326
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ , حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَأْكُلُ النَّارُ ابْنَ آدَمَ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ , حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہنم کی آگ ابن آدم کے سارے بدن کو کھائے گی سوائے سجدوں کے نشان کے ، اللہ تعالیٰ نے آگ پر یہ حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشان کو کھائے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4326
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 14215 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان 129 ( 806 ) ، الرقاق 52 ( 6573 ) ، التوحید 26 ( 7437 ) ، صحیح مسلم/الإیمان 81 ( 182 ) ، مسند احمد ( 2/276 ، 293 ، 534 ، 3/94 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جہنم کے احوال و صفات کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کی آگ ابن آدم کے سارے بدن کو کھائے گی سوائے سجدوں کے نشان کے، اللہ تعالیٰ نے آگ پر یہ حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشان کو کھائے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4326]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مومن گناہ گار جو جہنم میں جائے گا۔
وہ اپنی سزا بھگتنے کے بعد جل کر کوئلہ ہوجائے گا تاہم وہ زندہ ہوکر جنت میں جائے گا۔ (حدیث: 4309)
 زیر مطالعہ حدیث میں ایسے ہی مومن کا ذکر ہے۔
جسے سجدے کے نشان کی وجہ سے پہچان کر جہنم سے نکالا جائے گا۔

(3)
بے نماز کے چہرے پہ سجدے کا نشان نہیں ہوگا۔
اس لیے فرشتے اسے جہنم سے نہیں نکالیں گے۔
جبکہ دوسرے گناہگاروں کو وہ اللہ کے حکم سے جہنم سے نکال لیں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4326 سے ماخوذ ہے۔