حدیث نمبر: 4320
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " أُوقِدَتِ النَّارُ أَلْفَ سَنَةٍ فَابْيَضَّتْ , ثُمَّ أُوقِدَتْ أَلْفَ سَنَةٍ فَاحْمَرَّتْ , ثُمَّ أُوقِدَتْ أَلْفَ سَنَةٍ فَاسْوَدَّتْ , فَهِيَ سَوْدَاءُ كَاللَّيْلِ الْمُظْلِمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہنم ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو اس کی آگ سفید ہو گئی ، پھر ہزار برس بھڑکائی گئی تو وہ سرخ ہو گئی ، پھر ہزار برس بھڑکائی گئی تو وہ سیاہ ہو گئی ، اب وہ تاریک رات کی طرح سیاہ ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4320
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف / ت+2591
تخریج حدیث «سنن الترمذی/صفة جہنم ( 2591 ) ، ( تحفة الأشراف : 12807 ) ( ضعیف ) » ( سند میں شریک ضعیف راوی ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2591

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2591 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کی آگ ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہو گئی، پھر ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سفید ہو گئی، پھر ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سیاہ ہو گئی، اب وہ سیاہ ہے اور تاریک ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب صفة جهنم/حدیث: 2591]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں شریک القاضی حافظہ کے کمزور راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2591 سے ماخوذ ہے۔