حدیث نمبر: 4317
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ , قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ , يَقُولُ : سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَدْرُونَ مَا خَيَّرَنِي رَبِّيَ اللَّيْلَةَ ؟ " , قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " فَإِنَّهُ خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ , فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " , قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِهَا , قَالَ : " هِيَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو کہ آج رات میرے رب نے مجھے کس بات کا اختیار دیا ہے “ ؟ ہم نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا شفاعت کروں تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا “ ، ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں بھی شفاعت والوں میں بنائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ شفاعت ہر مسلمان کو شامل ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4317
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10909 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/صفة القیامة 13 ( 2441 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2441

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´شفاعت کا بیان۔`
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آج رات میرے رب نے مجھے کس بات کا اختیار دیا ہے ؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا شفاعت کروں تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا ، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں بھی شفاعت والوں میں بنائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شفاعت ہر مسلمان کو شامل ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4317]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جو اسلام پہ فوت ہو۔

(2)
شفاعت کی امید پہ گناہ کرتے چلے جانا عقل مندی نہیں۔
کیونکہ بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جنکے نتیجے میں ایمان کی نعمت چھین بھی سکتی ہے
(3)
مزید فوائد کے لیے ملاحظہ فرمائیں حدیث نمبر: 4311
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4317 سے ماخوذ ہے۔