حدیث نمبر: 4315
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ , عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَيَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَتِي , يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہنم میں سے ایک گروہ میری شفاعت کی وجہ سے باہر آئے گا ، ان کا نام جہنمی ہو گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4315
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الرقاق 51 ( 6566 ) ، سنن ابی داود/السنة 23 ( 4740 ) ، سنن الترمذی/صفة جہنم 10 ( 2600 ) ، ( تحفة الأشراف : 10871 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/434 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6566 | سنن ترمذي: 2600 | سنن ابي داود: 4740

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´شفاعت کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں سے ایک گروہ میری شفاعت کی وجہ سے باہر آئے گا، ان کا نام جہنمی ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4315]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
انھیں جہنمی اس معنی میں کہا جائیگا۔
کہ وہ جہنم سے نکلے ہوئے ہیں جیسے اگر کوئی شخص ایک شہر چھوڑ کر دوسری شہر میں رہائش اختیار کرلے تو عموماً اسے پہلے شہر کی طرف یاد کرکے منسوب کیا جا تا ہے۔

(2)
یہ نام اس لیے ہے کہ انھیں اللہ کی نعمت یاد رہے۔
اور انھیں خوشی حاصل ہو اس سے مقصود انکی تحقیر نہیں ویسے بھی جنت میں کوئی غم فکر اور پریشانی کا وجود نہ ھوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4315 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6566 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6566. حضرت عمرو بن حصین ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جنہم سے ایک قوم کو حضرت محمد ﷺ کی سفارش سے نکالا جائے گا اور وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ تو انہیں جہنمی کے نام سے پکارا جائے گا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6566]
حدیث حاشیہ:
یہ وہ لوگ ہوں گے جو جہنم میں جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، انہیں وہاں سے نکال کر آبِ حیات میں ڈالا جائے گا، ان کی وہاں اس طرح نشوونما ہوگی جس طرح خس و خاشاک کے سیلاب میں دانہ اُگتا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6566 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4740 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شفاعت کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ جہنم سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سفارش پر نکالے جائیں گے، وہ جنت میں داخل ہوں گے، اور وہ «جهنميين» جہنمی کہہ کر پکارے جائیں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4740]
فوائد ومسائل:
یہ لقب جنت میں ان کے لئے اذیت کا باعث نہیں ہو گا، اس سے نام محض یہ پتہ چلے گا کہ یہ لوگ جہنم سے آزادشدہ ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4740 سے ماخوذ ہے۔