حدیث نمبر: 4314
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ , كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ , وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غَيْرَ فَخْرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب قیامت کا دن ہو گا تو میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب مقرر ہوں گا ، اور ان کی سفارش کرنے والا ہوں گا ، میں بغیر کسی فخر کے یہ بات کہہ رہا ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4314
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف / ت+3613ب
تخریج حدیث «سنن الترمذی/المناقب 1 ( 3613 ) ، ( تحفة الأشراف : 29 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/137 ، 138 ) ( حسن ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´شفاعت کا بیان۔`
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب مقرر ہوں گا، اور ان کی سفارش کرنے والا ہوں گا، میں بغیر کسی فخر کے یہ بات کہہ رہا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4314]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
امام سے مراد قائد و پیشوا ہے۔
نماز کی امامت مراد نہیں-
(2)
جب تمام انبیاء خاموش ہو جایئں گے تو نبیﷺ انکی نمائند گی فرماتے ہوئے کلام فرمائِیں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4314 سے ماخوذ ہے۔