حدیث نمبر: 4311
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ , حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ , عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ , عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ وَبَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ , فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَكْفَى , أَتُرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِينَ لَا , وَلَكِنَّهَا لِلْمُذْنِبِينَ الْخَطَّائِينَ الْمُتَلَوِّثِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اختیار دیا گیا کہ شفاعت اور آدھی امت کے جنت میں داخل ہونے میں سے ایک چیز چن لوں ، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا ، کیونکہ وہ عام ہو گی اور کافی ہو گی ، کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ شفاعت متقیوں کے لیے ہے ؟ نہیں ، بلکہ یہ ایسے گناہگاروں کے لیے ہے جو غلطی کرنے والے اور گناہوں سے آلودہ ہوں گے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4311
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله لأنها
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 8989 ، ومصباح الزجاجة : 1542 ) ( ضعیف ) » ( سند میں اضطراب کی وجہ سے یہ سیاق ضعیف ہے ، اول حدیث «خيرت بين الشفاعة» دوسرے طریق سے صحیح ہے لیکن «لأنها أعم الخ» ضعیف ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 3585 و السنة لابن أبی عاصم : 891 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 1096

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´شفاعت کا بیان۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اختیار دیا گیا کہ شفاعت اور آدھی امت کے جنت میں داخل ہونے میں سے ایک چیز چن لوں، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا، کیونکہ وہ عام ہو گی اور کافی ہو گی، کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ شفاعت متقیوں کے لیے ہے؟ نہیں، بلکہ یہ ایسے گناہگاروں کے لیے ہے جو غلطی کرنے والے اور گناہوں سے آلودہ ہوں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4311]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
نبیﷺ اپنی امت کے انتہائی خیر خواہ تھے۔
اس لیے امت کے لوگوں کا بھی فرض ہے کہ وہ نبیﷺ سے محبت رکھیں انکے احکام کی تعمیل کریں۔
ان کے اسوہ کی پیروی کریں ان پہ درود پڑھیں اور انکے صحابہ کرام سے محبت کریں احترام کریں۔

(2)
آدھی امت کے بجائے شفاعت میں امید ہے زیادہ لوگوں کی مغفرت ہو جائے اس لیے آپﷺ نے اسے منتخیب فرمایا۔

(3)
نبیﷺ کی شفاعت اللہ کے اذن کے تابع ہےاس لیے اللہ ہی سے دعا کرنی چاییے۔
کہ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جن کے حق میں شفاعت کی اجازت نبیﷺ کو حاصل ہوگی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4311 سے ماخوذ ہے۔