حدیث نمبر: 4297
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَعْيَنَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ يَحْيَى الشَّيْبَانِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ , فَمَرَّ بِقَوْمٍ , فَقَالَ : " مَنِ الْقَوْمُ " , فَقَالُوا : نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ , وَامْرَأَةٌ تَحْصِبُ تَنُّورَهَا , وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا , فَإِذَا ارْتَفَعَ وَهَجُ التَّنُّورِ , تَنَحَّتْ بِهِ , فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " , قَالَتْ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَرْحَمِ الرَّاحِمِينَ ؟ قَالَ : " بَلَى " , قَالَتْ : أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَرْحَمَ بِعِبَادِهِ مِنَ الْأُمِّ بِوَلَدِهَا ؟ قَالَ : " بَلَى " , قَالَتْ : فَإِنَّ الْأُمَّ لَا تُلْقِي وَلَدَهَا فِي النَّارِ , فَأَكَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهَا , فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ مِنْ عِبَادِهِ إِلَّا الْمَارِدَ الْمُتَمَرِّدَ , الَّذِي يَتَمَرَّدُ عَلَى اللَّهِ , وَأَبَى أَنْ يَقُولَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے کہ آپ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تو پوچھا : ” تم کون لوگ ہو “ ؟ انہوں نے کہا : ہم مسلمان ہیں ، ان میں ایک عورت تنور میں ایندھن جھوک رہی تھی ، اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا ، جب تنور کی آگ بھڑک اٹھی وہ اپنے بیٹے کو لے کر ہٹ گئی ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ عورت نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا اللہ سارے رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیوں نہیں “ وہ بولی : کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحم نہیں کرے گا جتنا ماں اپنے بچے پر کرتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیوں نہیں “ ؟ اس نے کہا : ماں تو اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈالتی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر جھکا دیا ، اور روتے رہے پھر اپنا سر اٹھایا ، اور فرمایا : اللہ تعالیٰ اپنے انہی بندوں کو عذاب دے گا جو بہت سرکش و شریر ہیں ، اور جو اللہ تعالیٰ کے باغی ہوتے ہیں اور «لا إله إلا الله» کہنے سے انکار کرتے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4297
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: موضوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده موضوع, قال الإمام يزيد بن هارون : ” كان إسماعيل الشعري كذابًا “ (الضعفاء للعقيلي 96/1 وسنده صحيح )
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 7739 ، ومصباح الزجاجة : 1539 ) ( موضوع ) » ( سند میں اسماعیل بن یحییٰ متہم بالکذب ہے ، اور عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف )