حدیث نمبر: 4291
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْخَلَائِقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , أُذِنَ لِأُمَّةِ مُحَمَّدٍ فِي السُّجُودِ فَيَسْجُدُونَ لَهُ طَوِيلًا , ثُمَّ يُقَالُ : ارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ قَدْ جَعَلْنَا عِدَّتَكُمْ فِدَاءَكُمْ مِنَ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوق کو جمع کرے گا ، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو سجدے کا حکم دے گا ، وہ بڑی دیر تک اس کو سجدہ کرتے رہیں گے ، پھر حکم ہو گا اپنے سروں کو اٹھاؤ ہم نے تمہاری تعداد کے مطابق تمہارے فدئیے جہنم سے کر دئیے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4291
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا وجملة الفداء عند م , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف جدًا, جبارة وعبدالأعلى : مجروحان (تقدما:740 ، 87) و حديث مسلم (2767) يُغني عنه ۔
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجة ، ( تحفة الأشراف : 9111 ، ومصباح الزجاجة : 1536 ) ( ضعیف جدا ) » ( جبارہ بن المغلس ضعیف اور عبد الاعلی بن ابی المساور متروک راوی ہیں )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´امت محمدیہ کی صفات۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوق کو جمع کرے گا، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو سجدے کا حکم دے گا، وہ بڑی دیر تک اس کو سجدہ کرتے رہیں گے، پھر حکم ہو گا اپنے سروں کو اٹھاؤ ہم نے تمہاری تعداد کے مطابق تمہارے فدئیے جہنم سے کر دئیے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4291]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
اور مذید لکھا ہے کہ صحیح مسلم کی حدیث: 2767 اس سے کفایت کرتی ہے۔
دیکھئے: تحقیق وتخریج حدیث ہذا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4291 سے ماخوذ ہے۔