حدیث نمبر: 4276
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ , عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ الْقَاسِمِ , قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " حُفَاةً عُرَاةً " , قُلْتُ : وَالنِّسَاءُ ؟ قَالَ : " وَالنِّسَاءُ " , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَا يُسْتَحْيَا , قَالَ : " يَا عَائِشَةُ , الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! لوگ قیامت کے دن کیسے اٹھائے جائیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ننگے پاؤں ، ننگے بدن “ ، میں نے کہا : عورتیں بھی اسی طرح ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتیں بھی “ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! پھر شرم نہیں آئے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! معاملہ اتنا سخت ہو گا کہ ( کوئی ) ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھے گا “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اپنی جان بچانے کی فکر ہو گی ایسے وقت میں بدنظری کیسی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4276
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الرقاق 45 ( 6527 ) ، صحیح مسلم/الجنة 14 ( 2859 ) ، سنن النسائی/الجنائز 118 ( 2086 ) ، ( تحفة الأشراف : 17461 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/53 ، 90 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6527 | صحيح مسلم: 2859 | سنن نسائي: 2085 | سنن نسائي: 2086

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حشر کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگ قیامت کے دن کیسے اٹھائے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ننگے پاؤں، ننگے بدن ، میں نے کہا: عورتیں بھی اسی طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتیں بھی ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! پھر شرم نہیں آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! معاملہ اتنا سخت ہو گا کہ (کوئی) ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4276]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
لوگ جب قبروں سے نکلیں گے اس وقت ننگے پاؤں اور بے لباس ہوں گے بعد میں انھیں اپنے اپنے درجے کے مطابق لباس مل جائے گا۔

(2)
قیامت کے معاملات بہت سخت ہیں۔
بعض مراحل ایسے ہیں جن میں کسی کو کسی کا ہوش نہ ہوگا۔
البتہ بعض مراحل میں ایک دوسرے سے بات چیت ہوگی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4276 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6527 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6527. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ننگے پاؤں ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں اٹھاؤ جاو گے۔ سیدہ عائشہ‬ ؓ ک‬ہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا مرد، عورتیں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس وقت معاملہ اس سے کہیں زیادہ سنگین ہوگا، اس کا خیال بھی کوئی نہیں کرسکے گا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6527]
حدیث حاشیہ: سب پر قیامت کی ایسی دہشت غالب ہوگی کہ ہوش و حواس جواب دے جائیں گے۔
إلا ماشاءاللہ۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6527 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6527 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6527. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ننگے پاؤں ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں اٹھاؤ جاو گے۔ سیدہ عائشہ‬ ؓ ک‬ہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا مرد، عورتیں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس وقت معاملہ اس سے کہیں زیادہ سنگین ہوگا، اس کا خیال بھی کوئی نہیں کرسکے گا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6527]
حدیث حاشیہ:
قیامت کے دن لوگ بالکل ننگے میدان محشر میں آئیں گے جیسا کہ درج ذیل آیت سے معلوم ہوتا ہے: ’’اور تم ہمارے پاس اکیلے ہی آؤ گے جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔
‘‘ (الأنعام: 94/6)
ایک روایت میں ہے: ’’قیامت کی ہولناکیوں کے پیش نظر مرد، عورتوں کی طرف اور عورتیں مردوں کی طرف نہیں دیکھیں گے کیونکہ وہاں ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہو گی۔
‘‘ (المستدرك للحاکم: 609/4)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اللہ کے رسول! مستور اور پوشیدہ رکھے جانے والے اعضاء کا کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ’’سورۂ عبس کی درج ذیل آیت پڑھو: ’’اس دن ہر ایک کی ایسی حالت ہو گی جو اسے دوسروں سے بے پروا بنا دے گی۔
‘‘ (سنن النسائي، الجنائز، حدیث: 2085)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6527 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2859 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔"قیامت کے دن لوگوں کو ننگے پاؤں،ننگے بدن، اور بغیر ختنہ کے جمع کیا جائے گا۔"میں نے پوچھا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! عورتوں اور مردوں کو، جبکہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا معاملہ اس سے سنگین ہو گا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھیں۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7198]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
حفاة، حاف کی جمع ہے، ننگے پیر۔
(2)
عراة: عارکی جمع ہے، برہنہ بدن، بے لباس، (3)
غرل: اغرل کی جمع ہے، غیر مختون۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، لوگوں کا حشر، اس انداز سے ہو گا، جس انداز سےو ہ دنیا میں آئے تھے، اعمال کے سوا، ان کے پاس دنیا کی کوئی چیز نہیں ہوگی، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے، ''جس طرح ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کی تھی، اس طرح اس کا اعادہ کریں گے، انبیا، آیت نمبر (104)
اور حالات کی دہشت اور خطر ناکی کی بنا پر کوئی کسی کی طرف دیکھے گا نہیں، اس کے بعد لباس پہنایا جائے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2859 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2085 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن (اور) غیر مختون اٹھائے جائیں گے ، تو اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: لوگوں کی شرمگاہوں کا کیا حال ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس دن ہر ایک کی ایسی حالت ہو گی جو اسے (ان چیزوں سے) بے نیاز کر دے گی۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2085]
اردو حاشہ: یعنی اس قدر دہشت اور خوف ہوگا کہ کسی شخص کو ادھر ادھر دیکھنے کا ہوش ہی نہ ہوگا جیسے حادثات وغیرہ کے موقع پر ہوتا ہے۔ قیامت تو سب سے عظیم حادثہ ہے جس کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2085 سے ماخوذ ہے۔