سنن ابن ماجه
كتاب الزهد— کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الْمَوْتِ وَالاِسْتِعْدَادِ لَهُ باب: موت کی یاد اور اس کی تیاری کا بیان۔
حدیث نمبر: 4263
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ , وَعُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عَبِيدَةَ , قَالَا : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ , أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا كَانَ أَجَلُ أَحَدِكُمْ بِأَرْضٍ , أَوْثَبَتْهُ إِلَيْهَا الْحَاجَةُ , فَإِذَا بَلَغَ أَقْصَى أَثَرِهِ , قَبَضَهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ , فَتَقُولُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : رَبِّ هَذَا مَا اسْتَوْدَعْتَنِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کی موت کسی زمین میں لکھی ہوتی ہے تو ضرورت اس کو وہاں لے جاتی ہے ، جب وہ اپنے آخری نقش قدم کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی روح قبض کر لیتا ہے ، زمین قیامت کے دن کہے گی : اے رب ! یہ تیری امانت ہے جو تو نے میرے سپرد کی تھی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´موت کی یاد اور اس کی تیاری کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کسی کی موت کسی زمین میں لکھی ہوتی ہے تو ضرورت اس کو وہاں لے جاتی ہے، جب وہ اپنے آخری نقش قدم کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی روح قبض کر لیتا ہے، زمین قیامت کے دن کہے گی: اے رب! یہ تیری امانت ہے جو تو نے میرے سپرد کی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4263]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کسی کی موت کسی زمین میں لکھی ہوتی ہے تو ضرورت اس کو وہاں لے جاتی ہے، جب وہ اپنے آخری نقش قدم کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی روح قبض کر لیتا ہے، زمین قیامت کے دن کہے گی: اے رب! یہ تیری امانت ہے جو تو نے میرے سپرد کی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4263]
اردو حاشہ:
فوائدو مسائل: (1)
اللہ کا علم کامل اور اکمل ہے۔
اسے معلوم ہے کس شخص کی موت کہاں آنے کافیصلہ ہوچکا ہے۔
بندے کو معلوم نہیں ہے۔
ارشاد ہے: ﴿وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ (لقمان: 34: 31)
’’کسی کومعلوم نہیں کہ وہ کس زمین میں مرےگا۔
اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔‘‘
(2)
انسان کی موت اپنے وقت مقرر پرآتی ہے۔
ظاہری طور پر کوئی سبب بن جاتا ہے۔
جسے ہم حادثہ قرار دے لیتے ہیں۔
فوائدو مسائل: (1)
اللہ کا علم کامل اور اکمل ہے۔
اسے معلوم ہے کس شخص کی موت کہاں آنے کافیصلہ ہوچکا ہے۔
بندے کو معلوم نہیں ہے۔
ارشاد ہے: ﴿وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ (لقمان: 34: 31)
’’کسی کومعلوم نہیں کہ وہ کس زمین میں مرےگا۔
اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔‘‘
(2)
انسان کی موت اپنے وقت مقرر پرآتی ہے۔
ظاہری طور پر کوئی سبب بن جاتا ہے۔
جسے ہم حادثہ قرار دے لیتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4263 سے ماخوذ ہے۔