سنن ابن ماجه
كتاب الزهد— کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ التَّوْبَةِ باب: توبہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ , حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , سَمِعْتُ أَبِي , حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً , فَجَعَلَ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا , فَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 , فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلِي هَذِهِ , فَقَالَ : " هِيَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي " .
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بتایا کہ اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے ، وہ اس کا کفارہ پوچھنے لگا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نہیں کہا تو اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» ” نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں ( صبح و شام ) میں اور رات کے ایک حصے میں ، بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں ، یہ ذکر کرنے والوں کے لیے ایک نصیحت ہے “ ( سورۃ ہود : ۱۱۴ ) ، اس شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا یہ ( خاص ) میرے لیے ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ میری امت میں سے ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بتایا کہ اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے، وہ اس کا کفارہ پوچھنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نہیں کہا تو اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» ” نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں (صبح و شام) میں اور رات کے ایک حصے میں، بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ذکر کرنے والوں کے لیے ایک نصیحت ہے “ (سورۃ ہود: ۱۱۴)، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ (خاص) میرے لیے ہے؟ تو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4254]
فوائد و مسائل:
(1)
بعض گناہ دوسرے گناہوں سے چھوٹے بڑے ہوتے ہیں۔
جتنا بڑا گناہ ہوگا اس کی معافی کے لئے اتنی بڑی نیکی کی ضرورت ہے۔
(2)
وہ شخص اپنے گناہ پرنادم تھا۔
اور اس کی معافی کے لئے ہر کفارہ ادا کرنے کوتیارتھا۔
اس وجہ سے وہ گناہ نماز کی برکت سے معاف ہوگیا۔
جو شخص نادم نہ ہو۔
گناہ کو معمولی سمجھے اس کا چھوٹا گناہ بھی بڑا ہوجاتاہے۔
(3)
آیت کے شان نزول سے اس کا مطلب اور مفہوم واضح ہوجاتا ہے لیکن آیت میں مذکور حکم امت کے سب افراد کےلئے ہوتا ہے۔
(4)
گناہ ہوجائے تو فورا کوئی نیکی کرنی چاہیے مثلاً نفل نماز پڑھ کر گناہ کی معافی کی دعا کرے۔
یا صدقہ خیرات کرے یا کوئی اور نیکی کرے جو اس گناہ کی معافی سے مناسبت رکھتی ہو۔
مثلاً ذکر و اذکار، تلاوت اور نفلی روزہ وغیرہ۔
سچے دل سے توبہ کرے اور نماز پڑھے تو اللہ اس کے گناہ بخش دے گا۔
دونوں سروں سے فجر اور مغرب کی نمازیں اور رات سے عشاءکی نماز مراد ہے۔
ظہر اور عصر کی نمازوں کا ذکر دوسری آیتوں میں موجود ہے جو منکرین حدیث صرف تین نمازوں کے قائل ہیں وہ قرآن پاک سے بھی واقف نہیں ہیں۔
اللہ ان کو نیک سمجھ عطا کرے۔
(آمین)
1۔
ایک روایت میں اس کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔
ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! میں نے ایک عورت سے جماع کے علاوہ سب کچھ کیا ہے۔
میں حاضر ہوں میرے متعلق جو چاہیں فیصلہ فرمائیں حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تجھ پر پردہ ڈالا تھا۔
بہتر تھا کہ تو خود بھی اس پر پردہ پوشی کرتا لیکن رسول اللہ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا وہ اٹھ کر چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے پیچھے ایک آدمی کو بھیجا اور اسے بلا کر مذکورہ آیت سنائی قوم سے ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! کیا یہ حکم خاص اس کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: "نہیں بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے۔
" (صحیح مسلم التوبہ حدیث 7004۔
(2763)
ایک دوسری روایت میں ہے: " کیا تونے اچھی طرح وضو کر کے نماز نہیں پڑھی؟" اس نے کہا: کیوں نہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے تیرا گناہ معاف کردیا ہے۔
" (صحیح مسلم التوبہ حدیث7007(2765)
2۔
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "پانچوں نمازیں جمعہ دوسرے جمعے تک اور رمضان دوسرے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں جبکہ وہ بڑے گناہوں سے اجتناب کرتا رہے۔
(صحیح مسلم الطہارۃ حدیث552۔
(233)
3۔
نیکیوں سے برائیاں ختم ہونے کی تین صورتیں ہیں۔
جو شخص نیکیاں بکثرت کرے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
اس سے برائی کی عادت چھوٹ جاتی ہے۔
جس معاشرے میں نیکی کے کام بکثرت ہو رہے ہوں برائیاں خود بخود وہاں سے رخصت ہو نے لگتی ہیں۔
واللہ اعلم۔