سنن ابن ماجه
كتاب الزهد— کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ التَّوْبَةِ باب: توبہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4252
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ , عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ ابْنِ مَعْقِلٍ , قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ , فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّدَمُ تَوْبَةٌ " , فَقَالَ لَهُ أَبِي : أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " النَّدَمُ تَوْبَةٌ " ؟ قَالَ : نَعَمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن معقل مزنی کہتے ہیں کہ` میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ندامت ( شرمندگی ) توبہ ہے “ ، میرے والد نے ان سے پوچھا کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت توبہ ہے ؟ انہوں نے کہا : ” ہاں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´توبہ کا بیان۔`
عبداللہ بن معقل مزنی کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ندامت (شرمندگی) توبہ ہے “، میرے والد نے ان سے پوچھا کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت توبہ ہے؟ انہوں نے کہا: ” ہاں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4252]
عبداللہ بن معقل مزنی کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ندامت (شرمندگی) توبہ ہے “، میرے والد نے ان سے پوچھا کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت توبہ ہے؟ انہوں نے کہا: ” ہاں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4252]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ندامت توبہ کا اہم جز ہے۔
(2)
عالی سند کی طلب مستحسن ہے۔
(3)
اگر کسی چیز میں شک ہو تو استاد سے دریافت کرلینا احترام کے منافی نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
ندامت توبہ کا اہم جز ہے۔
(2)
عالی سند کی طلب مستحسن ہے۔
(3)
اگر کسی چیز میں شک ہو تو استاد سے دریافت کرلینا احترام کے منافی نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4252 سے ماخوذ ہے۔