حدیث نمبر: 4250
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ , حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ , عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4250
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف, أبو عبيدة بن عبدالله بن مسعود عن أبيه : منقطع ۔ (تقدم:615)
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9610 ، ومصباح الزجاجة : 1521 ) ( حسن ) » ( سند میں ابوعبیدہ کا سماع اپنے والد سے نہیں ہے ، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 615- 616 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´توبہ کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4250]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کوہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے۔
اورمذید لکھا ہے کہ حافظ ابن حجررحمۃ اللہ علیہ نے اسے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے حسن قرار دیا ہے۔
محققین کے تفصیلی کلام سے یہی بات راحج معلوم ہوتی ہے۔
کہ مذکورہ روایت دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہوجاتی ہے۔
مذید تفصیل کے لئے دیکھئے: (الضعیفة، تحت الحدیث: 615، 616)
گناہ کی وجہ سے بندہ اللہ سے دور ہوجاتا ہے۔
توبہ کرنے سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
اور بندے کو دوبارہ وہی مقام حاصل ہوجاتا ہے۔

(2)
جوشخص گناہ سے توبہ کرکے اپنی اصلاح کرلے۔
اسے گزشتہ گناہ کی وجہ سے مطعون کرنا جائز نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4250 سے ماخوذ ہے۔