حدیث نمبر: 4240
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ , سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ , فَإِنَّ خَيْرَ الْعَمَلِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم خود کو اتنے ہی کام کا مکلف کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو ، کیونکہ بہترین عمل وہ ہے جس پر مداومت کی جائے ، خواہ وہ کم ہی ہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4240
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 13942 ، ومصباح الزجاجة : 1515 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/350 ) ( صحیح ) » ( سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں ، اور ولید بن مسلم تدلیس التسویہ کرتے ہیں ، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مسند الحميدي: 1039

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1039 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1039- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "تم لوگ صوم وصال نہ رکھو!" لوگوں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو صوم وصال رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں تمہاری مانند نہیں ہوں میرا پرودگار مجھے کھلا اور پلا دیتا ہے۔‏‏‏‏" [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1039]
فائدہ:
مسلسل روزے رکھنا منع ہے، وصال کی تشریح حدیث کے ساتھ قوسین میں موجود ہے، اسلام میانہ روی کا درس دیتا ہے، اور رہبانیت سے دور رکھتا ہے، کھلانے پلانے سے مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1042 سے ماخوذ ہے۔