حدیث نمبر: 4234
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ : قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ : الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ , وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن آدم ( انسان ) بوڑھا ہو جاتا ہے ، اور اس کی دو خواہشیں جوان ہو جاتی ہیں : مال کی ہوس ، اور عمر کی زیادتی کی تمنا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4234
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الزکاة 38 ( 1047 ) ، سنن الترمذی/الزھد 28 ( 2339 ) ، ( تحفة لأشراف : 1434 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الرقاق 5 ( 6421 ) ، مسند احمد ( 3/115 ، 119 ، 169 ، 192 ، 256 ، 276 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6421 | صحيح مسلم: 1047 | سنن ترمذي: 2339 | سنن ترمذي: 2455

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´انسان کی آرزو اور عمر کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم (انسان) بوڑھا ہو جاتا ہے، اور اس کی دو خواہشیں جوان ہو جاتی ہیں: مال کی ہوس، اور عمر کی زیادتی کی تمنا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4234]
اردو حاشہ:
بڑھاپے میں آخرت بہتر نانے کی طرف توجہ ہونی چاہیے۔ 2۔
مال اور عمر کی حرص اچھی نہیں۔
ان دونوں کا فائدہ تو تبھی ہے جب ان سے نیکیاں کمانے میں مدد لی جائے۔
لیکن عام طور پر انسان نیکیوں سے غفلت کرتا ہے جو اس کے لیے نقصان کا باعث ہے
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4234 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6421 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6421. حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’انسان کی عمر بڑھتی جاتی ہے اور اس کے ساتھ دو چیزیں بھی اس کے اندر پروان چڑھتی جاتی ہیں: ایک مال کی محبت اور دوسری درازی عمر کی خواہش۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:6421]
حدیث حاشیہ: اس سند کے ذکر کرنے سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی غرض یہ ہے کہ قتادہ کی تدلیس کا شبہ رفع ہو کیونکہ شعبہ تدلیس کرنے والوں سے اسی وقت روایت کرتے ہیں جب ان کے سماع کا یقین ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6421 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6421 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6421. حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’انسان کی عمر بڑھتی جاتی ہے اور اس کے ساتھ دو چیزیں بھی اس کے اندر پروان چڑھتی جاتی ہیں: ایک مال کی محبت اور دوسری درازی عمر کی خواہش۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:6421]
حدیث حاشیہ:
(1)
واقعی یہ حقیقت ہے کہ جوں جوں انسان بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کی حرص اور خواہشات جواں ہوتی رہتی ہیں اور یہی دو باتیں تمام گناہوں کا سرچشمہ ہیں۔
حرص انسان کو قبول حق سے روکتی ہے اور لمبی امید کی وجہ سے انسان کو یہ خیال بھی نہیں آتا کہ اسے کسی وقت اس دنیا سے رخصت بھی ہونا ہے۔
اپنی موت اسے بھول کر بھی یاد نہیں آتی، حالانکہ ایسی آرزوئیں کسی کو ساری عمر حاصل ہوئی ہیں اور نہ ہوں گی۔
اس قسم کی خواہشات آخرت کو نظر انداز کر دینے کا باعث ہیں۔
(2)
دوسری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کثرت مال اور لمبی عمر کی حرص کرنا انتہائی مذموم حرکت ہے۔
ان دو خصلتوں کی تخصیص اس لیے ہے کہ انسان کو اپنی جان بہت پیاری ہے، اس لیے اس کی زیادہ رغبت عمر کے باقی رہنے میں ہوتی ہے اور مال سے محبت کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی دائمی صحت جس پر لمبی عمر کا دارومدار ہے، اس کی بقا مال و دولت پر منحصر ہے۔
جب بھی انسان عمر اور مال کا ختم ہونا محسوس کرتا ہے تو اس میں اس کی محبت اور اس کے دوام اور ہمیشگی میں رغبت زیادہ ہو جاتی ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6421 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1047 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے (بڑھاپے کے سبب اس کی ساری قوتیں کمزور پڑ جاتی ہیں) مگر اس کے نفس کی دو خصلتیں اور زیادہ جوان (طاقتور) ہو جاتی ہیں دولت کی حرص اور زیادتی عمر کی حرص۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2412]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: تجربہ اور مشاہد شاہد ہے کہ انسانوں کا عام حال یہی ہے کیونکہ انسان کے نفس میں بہت سی غلط خواہشات جنم لیتی ہیں جو اسی صورت میں پوری ہو سکتی ہیں، جبکہ اس کے ساتھ میں مال و دولت ہو اور ان خواہشوں کی لذتوں اور بربادیوں سے محفوظ رکھنا عقل و شعور کا کام ہے بڑھاپے میں جب عقل مضحل اور کمزور ہو جاتی ہے تو اس کا خواہشات پر کنٹرول ڈھیلا پڑجاتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عمر کے آخری حصہ میں بہت سی خواہشات ہوس کا درجہ اختیار کر لیتی ہیں اور اس کی وجہ سے عمر کی زیادتی کے ساتھ مال و دولت کی حرص اور چاہت اور بڑھ جاتی ہے تاکہ وہ خوب کھیل کھیلے لیکن اللہ کے نیک بندے جنہوں نے اس دنیا اور اس کی خواہشات کی حقیقت اس کے انجام کو سمجھ لیا ہے اور اپنے نفسوں کی صحیح تربیت کی ہے وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1047 سے ماخوذ ہے۔