سنن ابن ماجه
كتاب الزهد— کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
بَابُ : النِّيَّةِ باب: نیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4229
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا يُبْعَثُ النَّاسُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ اپنی نیت کے مطابق اٹھائے جائیں گے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اگرچہ بری اور فاسق جماعت کے ساتھ اس پر بھی دنیا کا عذاب آ جائے لیکن آخرت میں ہر شخص اپنی نیت پر اٹھے گا جیسے اوپر ایک طویل حدیث میں گزرا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نیت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگ اپنی نیت کے مطابق اٹھائے جائیں گے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4229]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگ اپنی نیت کے مطابق اٹھائے جائیں گے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4229]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اعمال کی جزا و سزا نیتوں کے مطابق ملتی ہے۔
(2)
بعض لوگ گناہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں: ہماری نیت نیک ہے۔
یہ غلط ہے۔
جان بوجھ کر گناہ کرنا بری نیت ہی میں شامل ہے اگرچہ انسان اس کے لیے کوئی جواز تراش لے مثلاً: صدقہ دینے کی نیت سے چوری کرنا گناہ ہی ہے بلکہ یہ زیادہ گناہ ہے کیونکہ اس صور ت میں انسان برائی کو نیکی سمجھ لیتا ہے اس لیے اس پر شرمندہ ہو کر توبہ کرنے کی بجائے فخر کرتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اعمال کی جزا و سزا نیتوں کے مطابق ملتی ہے۔
(2)
بعض لوگ گناہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں: ہماری نیت نیک ہے۔
یہ غلط ہے۔
جان بوجھ کر گناہ کرنا بری نیت ہی میں شامل ہے اگرچہ انسان اس کے لیے کوئی جواز تراش لے مثلاً: صدقہ دینے کی نیت سے چوری کرنا گناہ ہی ہے بلکہ یہ زیادہ گناہ ہے کیونکہ اس صور ت میں انسان برائی کو نیکی سمجھ لیتا ہے اس لیے اس پر شرمندہ ہو کر توبہ کرنے کی بجائے فخر کرتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4229 سے ماخوذ ہے۔