حدیث نمبر: 4228
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ كَمَثَلِ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا , فَهُوَ يَعْمَلُ بِعِلْمِهِ فِي مَالِهِ يُنْفِقُهُ فِي حَقِّهِ , وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يُؤْتِهِ مَالًا , فَهُوَ يَقُولُ : لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ هَذَا عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ الَّذِي يَعْمَلُ " , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَهُمَا فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ , وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يُؤْتِهِ عِلْمًا , فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ يُنْفِقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ , وَرَجُلٌ لَمْ يُؤْتِهِ اللَّهُ عِلْمًا وَلَا مَالًا , فَهُوَ يَقُولُ : لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ مَالِ هَذَا عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ الَّذِي يَعْمَلُ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَهُمَا فِي الْوِزْرِ سَوَاءٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس امت کی مثال چار لوگوں جیسی ہے : ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال اور علم عطا کیا ، تو وہ اپنے علم کے مطابق اپنے مال میں تصرف کرتا ہے ، اور اس کو حق کے راستے میں خرچ کرتا ہے ، ایک وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا اور مال نہ دیا ، تو وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس اس شخص کی طرح مال ہوتا تو میں بھی ایسے ہی کرتا جیسے یہ کرتا ہے “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو یہ دونوں اجر میں برابر ہیں ، اور ایک شخص ایسا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا لیکن علم نہیں ، دیا وہ اپنے مال میں غلط روش اختیار کرتا ہے ، ناحق خرچ کرتا ہے ، اور ایک شخص ایسا ہے جس کو اللہ نے نہ علم دیا اور نہ مال ، تو وہ کہتا ہے : کاش میرے پاس اس آدمی کے جیسا مال ہوتا تو میں اس ( تیسرے ) شخص کی طرح کرتا یعنی ناحق خرچ کرتا “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4228
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12146 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الزہد 17 ( 2325 ) ، مسند احمد ( 4/230 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نیت کا بیان۔`
ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اس امت کی مثال چار لوگوں جیسی ہے: ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال اور علم عطا کیا، تو وہ اپنے علم کے مطابق اپنے مال میں تصرف کرتا ہے، اور اس کو حق کے راستے میں خرچ کرتا ہے، ایک وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا اور مال نہ دیا، تو وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس اس شخص کی طرح مال ہوتا تو میں بھی ایسے ہی کرتا جیسے یہ کرتا ہے "، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تو یہ دونوں اجر میں برابر ہیں، اور ایک شخص ایسا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا لیکن علم نہیں، دیا وہ اپنے مال میں غلط روش۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4228]
اردو حاشہ:
فوائدومسائل: (1)
اگر انسان ایک نیکی کی خواہش رکھتا ہو لیکن کسی عذر کی وجہ سے اسے نہ کرسکتا ہو تو اس کی اچھی نیت کی وجہ سےاسے ثواب ملتا ہے۔

(2)
اگر کوئی شخص ایک نیکی کرے لیکن کسی رکاوٹ کی وجہ سے انجام نہ دے سکے وہ بھی ثواب کا مستحق ہو گا۔

(3)
گناہ کی خواہش ہو لیکن انسان اس کا ارتکاب کرنے سے معذور ہو یا گناہ کی کوشش کرے اور کامیاب نہ ہو تب بھی گناہ گار ہوتا ہے۔

(4)
اگر دل میں گناہ کی خواہش پیدا ہو لیکن اللہ کی رضا کے لیے اس کے ارتکاب سے پرہیز کیا جائے تو ثواب ملتا ہے۔

(5)
نیکی سے محبت اور برائی سے نفرت اسی طرح نیک کام کرنے والوں سے محبت اور برے کام کرنے والوں سے نفرت بھی ثواب کا باعث ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4228 سے ماخوذ ہے۔