حدیث نمبر: 4225
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : قُلْتُ لَهُ : الرَّجُلُ يَعْمَلُ الْعَمَلَ لِلَّهِ , فَيُحِبُّهُ النَّاسُ عَلَيْهِ ؟ , قَالَ : " ذَلِكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : ایک شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام کرتا ہے تو کیا اس کی وجہ سے لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو مومن کے لیے نقد ( جلد ملنے والی ) خوشخبری ( بشارت ) ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4225
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البروالصلة 51 ( 2642 ) ، ( تحفة الأشراف : 11954 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/156 ، 168 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2642

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´لوگوں کی عمدہ تعریف و توصیف کا بیان۔`
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ایک شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام کرتا ہے تو کیا اس کی وجہ سے لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو مومن کے لیے نقد (جلد ملنے والی) خوشخبری (بشارت) ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4225]
اردو حاشہ:
فوائدومسائل: (1)
نیکی کرتے ہوئے یہ نیت نہیں ہونی چاہیے کہ اس کی وجہ سے تعریف اور عزت ہو۔
لیکن مومن کو دنیا میں بھی نیکی کا انعام ملتا ہے اور اسے عزت حاصل ہوتی ہے۔

(2)
عوام کی محبت نیک مومن پر اللہ کا احسان ہے لہٰذا اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور احتیاط کرنی چاہیے کہ دل میں فخر اور خود پسندی کے جذبات پیدا نہ ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4225 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2642 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا، بتائیے ایک آدمی نیک کام کرتا ہے اور اس پر لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:"یہ مومن کے لیے فوری بشارت ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6721]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا، کسی نیک انسان کے نیک اور اچھے کام پر لوگوں کا اس کی تعریف و توصیف کرنا اخروی بشارت ہے، بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّاتٌ (سورۃ الحدید آیت نمبر 12)
کا عکس ہے اور اللہ کے ہاں اس کی قبولیت اور رضا مندی کی دلیل ہے، لیکن یہ تب ہے جب وہ اس کا خواہاں اور طالب نہیں ہے اور اس کے لیے کوشش اور حیلہ نہیں کرتا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2642 سے ماخوذ ہے۔