سنن ابن ماجه
كتاب الزهد— کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
بَابُ : الْبَغْيِ باب: بغاوت و سرکشی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4213
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى 61 بَنِي عَامِرٍ 61 , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " حَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شر سے آدمی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلم بھائی کی تحقیر کرے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بغاوت و سرکشی کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شر سے آدمی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلم بھائی کی تحقیر کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4213]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شر سے آدمی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلم بھائی کی تحقیر کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4213]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسلمان کو ذلیل کرنا یا اسے حقیر اور کم تر سمجھ کر بدسلوکی کرنا بہت بڑا جرم ہے۔
(2)
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی میں صرف یہی عیب ہو کوئی اور عیب نہ ہو تو اسے برا آدمی قرار دینے کے لیے یہی عیب کافی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مسلمان کو ذلیل کرنا یا اسے حقیر اور کم تر سمجھ کر بدسلوکی کرنا بہت بڑا جرم ہے۔
(2)
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی میں صرف یہی عیب ہو کوئی اور عیب نہ ہو تو اسے برا آدمی قرار دینے کے لیے یہی عیب کافی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4213 سے ماخوذ ہے۔