حدیث نمبر: 421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ : وَلَهَانُ ، فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وضو میں وسوسہ ڈالنے کے کام کے لیے ایک شیطان ہے جس کو ولہان کہا جاتا ہے ، لہٰذا تم پانی کے وسوسوں سے بچو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 421
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, ترمذي (57), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الطہارة 43 ( 57 ) ، ( تحفة الأشراف : 66 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/126 ) ( ضعیف جدًا ) » ( سند میں خارجہ بن مصعب متروک راوی ہے ، اور کذابین سے تدلیس کرتا ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 57

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 57 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´وضو میں پانی کے بے جا استعمال کی کراہت کا بیان۔`
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: " وضو کے لیے ایک شیطان ہے، اسے ولہان کہا جاتا ہے، تم اس کے وسوسوں کے سبب پانی زیادہ خرچ کرنے سے بچو۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 57]
اردو حاشہ:
1؎:
امام ترمذی جب ((اَصحَابنا)) کہتے ہیں تو اس سے محدثین مراد ہوتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 57 سے ماخوذ ہے۔