سنن ابن ماجه
كتاب الزهد— کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
بَابُ : التَّوَقِّي عَلَى الْعَمَلِ باب: عمل قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4199
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ عِمْرَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ , حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ رَبٍّ , قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّمَا الْأَعْمَالُ كَالْوِعَاءِ , إِذَا طَابَ أَسْفَلُهُ طَابَ أَعْلَاهُ , وَإِذَا فَسَدَ أَسْفَلُهُ فَسَدَ أَعْلَاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اعمال برتن کی طرح ہیں ، جب اس میں نیچے اچھا ہو گا تو اوپر بھی اچھا ہو گا ، اور جب نیچے خراب ہو گا تو اوپر بھی خراب ہو گا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: پس جو اعمال خلوص اور صدق دل سے کئے جائیں ان کی تاثیر آدمی پر پڑتی ہے، اور لوگ خواہ مخواہ ایسے شخص کو اچھا سمجھتے ہیں، لیکن جو اعمال ریا کی نیت سے کئے جائیں اس کے کرنے والے پر نور نہیں ہوتا، اور تامل سے اس کا خبیث باطن عاقل آدمی کو ظاہر ہوتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عمل قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنے کا بیان۔`
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” اعمال برتن کی طرح ہیں، جب اس میں نیچے اچھا ہو گا تو اوپر بھی اچھا ہو گا، اور جب نیچے خراب ہو گا تو اوپر بھی خراب ہو گا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4199]
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” اعمال برتن کی طرح ہیں، جب اس میں نیچے اچھا ہو گا تو اوپر بھی اچھا ہو گا، اور جب نیچے خراب ہو گا تو اوپر بھی خراب ہو گا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4199]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر عمل کرتے وقت دل کی گہرائی میں خلوص ہوگا تو عمل اچھا اور قابل قبول ہوگا۔
اگر دل میں خلوص نہیں تو بظاہر اچھا نظر آنے والا عمل بھی حقیقت میں اچھا نہیں۔ 2۔
برتن میں پانی پڑا ہوا ہو اور برتن کے نچلے حصے میں گندگی موجود ہو تو برتن کا سارا پانی اس سے متاثر ہو کر ناقابل استعمال ہوجاتا ہے خواہ بظاہر اوپر والا پانی صاف محسوس ہورہا ہو۔
عمل اور اخلاص کی یہی مثال ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اگر عمل کرتے وقت دل کی گہرائی میں خلوص ہوگا تو عمل اچھا اور قابل قبول ہوگا۔
اگر دل میں خلوص نہیں تو بظاہر اچھا نظر آنے والا عمل بھی حقیقت میں اچھا نہیں۔ 2۔
برتن میں پانی پڑا ہوا ہو اور برتن کے نچلے حصے میں گندگی موجود ہو تو برتن کا سارا پانی اس سے متاثر ہو کر ناقابل استعمال ہوجاتا ہے خواہ بظاہر اوپر والا پانی صاف محسوس ہورہا ہو۔
عمل اور اخلاص کی یہی مثال ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4199 سے ماخوذ ہے۔