سنن ابن ماجه
كتاب الزهد— کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
بَابُ : الْحِلْمِ باب: حلم اور بردباری کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ الشَّيْبَانِيُّ , عَنْ عُمَارَةَ الْعَبْدِيِّ , حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ , قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " أَتَتْكُمْ وُفُودُ عَبْدِ الْقَيْسِ " , وَمَا يَرَى أَحَدٌ فِينَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءُوا فَنَزَلُوا , فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَقِيَ الْأَشَجُّ الْعَصَرِيُّ , فَجَاءَ بَعْدُ فَنَزَلَ مَنْزِلًا , فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ وَوَضَعَ ثِيَابَهُ جَانِبًا , ثُمَّ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَشَجُّ , إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ : الْحِلْمَ وَالتُّؤَدَةَ " , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَشَيْءٌ جُبِلْتُ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ حَدَثَ لِي , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ شَيْءٌ جُبِلْتَ عَلَيْهِ " .
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے پاس قبیلہ عبدالقیس کے وفود آئے ہیں ، اور کوئی اس وقت نظر نہیں آ رہا تھا ، ہم اسی حال میں تھے کہ وہ آ پہنچے ، اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، اشج عصری رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے ، وہ بعد میں آئے ، ایک مقام پر اترے ، اپنی اونٹنی کو بٹھایا ، اپنے کپڑے ایک طرف رکھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اشج ! تم میں دو خصلتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے : ایک تو حلم و بردباری ، دوسری طمانینت و سہولت ، اشج رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ صفات میری خلقت میں ہے یا نئی پیدا ہوئی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، یہ پیدائشی ہیں “ ۱؎ ۔