حدیث نمبر: 4184
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي بَكْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ , وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ , وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ , وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حیاء ایمان سے ہے ، اور ایمان کا بدلہ جنت ہے ، اور فحش گوئی «جفا» ( ظلم و زیادتی ) ہے اور «جفا» ( ظلم زیادتی ) کا بدلہ جہنم ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4184
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11670 ، ومصباح الزجاجة : 1486 ) ( صحیح ) » ( سند میں حسن بصری ہیں ، جن کا سماع ابو بکرة رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے ، لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 495 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 66

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´شرم و حیاء کا بیان۔`
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیاء ایمان سے ہے، اور ایمان کا بدلہ جنت ہے، اور فحش گوئی «جفا» (ظلم و زیادتی) ہے اور «جفا» (ظلم زیادتی) کا بدلہ جہنم ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4184]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اچھے اعمال کی طرح اچھے اخلاق بھی ایمان میں شامل ہیں۔

(2)
مومن کو اچھی عادتوں کا پابند ہونا چاہیے اور بری عادتوں سے متنفر ہونا چاہیے۔

(3)
بد کلامی گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑا وغیرہ ہے جو مومن کی شان کے لائق نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4184 سے ماخوذ ہے۔