حدیث نمبر: 4178
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَعُودُ الْمَرِيضَ , وَيُشَيِّعُ الْجِنَازَةَ , وَيُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ , وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ , وَكَانَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ , وَالنَّضِيرِ عَلَى حِمَارٍ , وَيَوْمَ خَيْبَرَ عَلَى حِمَارٍ مَخْطُومٍ بِرَسَنٍ مِنْ لِيفٍ , وَتَحْتَهُ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت کرتے ، جنازے کے پیچھے جاتے ، غلام کی دعوت قبول کر لیتے ، گدھے کی سواری کرتے ، جس دن بنو قریظہ اور بنو نضیر کا واقعہ ہوا ، آپ گدھے پر سوار تھے ، خیبر کے دن بھی ایک ایسے گدھے پر سوار تھے جس کی رسی کھجور کی چھال کی تھی ، اور آپ کے نیچے کھجور کی چھال کا زین تھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4178
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف / تقدم:2296
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الجنائز 32 ( 1017 ) ، ( تحفة الأشراف : 1588 ) ( ضعیف ) » ( سند میں مسلم الاعور ضعیف ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1017

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1017 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جنازہ سے متعلق ایک اور باب۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت کرتے، جنازے میں شریک ہوتے، گدھے کی سواری کرتے اور غلام کی دعوت قبول فرماتے تھے۔ بنو قریظہ ۱؎ والے دن آپ ایک ایسے گدھے پر سوار تھے، جس کی لگام کھجور کی چھال کی رسی کی تھی، اس پر زین بھی چھال ہی کی تھی۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1017]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
خیبرکے یہودیوں کا ایک قبیلہ ہے یہ واقعہ ذی قعدہ 5ھ؁کا ہے۔

نوٹ:
(سند میں مسلم بن کیسان الاعورضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1017 سے ماخوذ ہے۔