سنن ابن ماجه
كتاب الزهد— کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
بَابُ : الْحِكْمَةِ باب: حکمت و دانائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4172
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الَّذِي يَجْلِسُ يَسْمَعُ الْحِكْمَةَ , ثُمَّ لَا يُحَدِّثُ عَنْ صَاحِبِهِ إِلَّا بِشَرِّ مَا يَسْمَعُ , كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى رَاعِيًا , فَقَالَ : يَا رَاعِي , أَجْزِرْنِي شَاةً مِنْ غَنَمِكَ , قَالَ : اذْهَبْ فَخُذْ بِأُذُنِ خَيْرِهَا , فَذَهَبَ فَأَخَذَ بِأُذُنِ كَلْبِ الْغَنَمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی مجلس میں بیٹھ کر حکمت کی باتیں سنے ، پھر اپنے ساتھی سے صرف بری بات بیان کرے ، تو اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص کسی چرواہے کے پاس جائے ، اور کہے : اے چرواہے ! مجھے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری ذبح کرنے کے لیے دو ، چرواہا کہے : جاؤ اور ان میں سب سے اچھی بکری کا کان پکڑ کر لے جاؤ ، تو وہ جائے اور بکریوں کی نگرانی کرنے والے کتے کا کان پکڑ کر لے جائے “ ۔