حدیث نمبر: 4165
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ سَلَّامِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَبِي شُرَحْبِيلَ , عَنْ حَبَّةَ , وَسَوَاءٍ ابْنَيْ خَالِدٍ , قَالَا : دَخَلْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُعَالِجُ شَيْئًا فَأَعَنَّاهُ عَلَيْهِ , فَقَالَ : " لَا تَيْأَسَا مِنَ الرِّزْقِ مَا تَهَزَّزَتْ رُءُوسُكُمَا , فَإِنَّ الْإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ أَحْمَرَ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرٌ , ثُمَّ يَرْزُقُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں ، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے ، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4165
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الأعمش عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 527
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3292 ، ومصباح الزجاجة : 1477 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/469 ) ( ضعیف ) » ( سلام بن شرحبیل لین الحدیث ہیں )