حدیث نمبر: 4162
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سَعِيدِ بِنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ , عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَنَيْتُ بَيْتًا يُكِنُّنِي مِنَ الْمَطَرِ , وَيُكِنُّنِي مِنَ الشَّمْسِ , مَا أَعَانَنِي عَلَيْهِ خَلْقُ اللَّهِ تَعَالَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا کہ میں نے ایک گھر بنایا جو مجھے بارش اور دھوپ سے بچائے ، اور اللہ کی مخلوق نے میری اس میں ( گھر بنانے میں ) کوئی مدد نہیں کی تھی ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4162
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الاستئذان 53 ( 6302 ) ، ( تحفة الأشراف : 7076 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´گھر بنانے اور اجاڑنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا کہ میں نے ایک گھر بنایا جو مجھے بارش اور دھوپ سے بچائے، اور اللہ کی مخلوق نے میری اس میں (گھر بنانے میں) کوئی مدد نہیں کی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4162]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
گھر کا اصل مقصد بارش اور دھوپ سے بچاؤ اپنی نجی کا تحفظ اور پردے کا اہتمام ہے۔
یہ فائدہ معمولی گھر سے بھی اسی طرح حاصل ہوتا ہے جس طرح مزین اور خوبصورت کوٹھیوں سے حاصل ہوتا ہے اس لیے ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا بے فائدہ ہے۔

(2)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ذاتی ضروریات کے لیے سادہ سے سادہ اہتمام کرتے تھے اور باقی مال اللہ کی راہ میں اور دوسروے مسلمانوں کی مدد کے لیے خرچ کردیتے تھے یہی سادگی مسلمان کی اصل شان ہے۔

(3)
کسی کے مدد نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے تیار نہیں تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اتنا معمولی گھر تھا کہ خود ہی بنا لیا کسی سے مدد لینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4162 سے ماخوذ ہے۔