سنن ابن ماجه
كتاب الزهد— کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
بَابٌ في الْبِنَاءِ وَالْخَرَابِ باب: گھر بنانے اور اجاڑنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي فَرْوَةَ , حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبَّةٍ عَلَى بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ , فَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " , قَالُوا : قُبَّةٌ بَنَاهَا فُلَانٌ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَالٍ يَكُونُ هَكَذَا , فَهُوَ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " , فَبَلَغَ الْأَنْصَارِيَّ ذَلِكَ فَوَضَعَهَا , فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ , فَلَمْ يَرَهَا , فَسَأَلَ عَنْهَا , فَأُخْبِرَ أَنَّهُ وَضَعَهَا لِمَا بَلَغَهُ عَنْكَ , فَقَالَ : " يَرْحَمُهُ اللَّهُ ! يَرْحَمُهُ اللَّهُ " .
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے دروازے پر بنے گنبد پر سے گزرے ، تو سوال کیا : ” یہ کیا ہے “ ؟ لوگوں نے کہا : یہ گول گھر ہے ، اس کو فلاں نے بنایا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مال اس طرح خرچ ہو گا ، وہ اپنے مالک کے لیے روز قیامت وبال ہو گا ، انصاری کو اس کی خبر پہنچی ، تو اس نے اس گھر کو ڈھا دیا ، جب دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے ، تو دیکھا کہ وہاں وہ بنگلہ نہیں ہے ، تو اس کے بارے میں سوال فرمایا تو بتایا گیا کہ جب اس کو آپ کی کہی ہوئی بات کی خبر پہنچی ، تو اس نے اسے ڈھا دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، اللہ اس پر رحم کرے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے دروازے پر بنے گنبد پر سے گزرے، تو سوال کیا: ” یہ کیا ہے “؟ لوگوں نے کہا: یہ گول گھر ہے، اس کو فلاں نے بنایا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو مال اس طرح خرچ ہو گا، وہ اپنے مالک کے لیے روز قیامت وبال ہو گا، انصاری کو اس کی خبر پہنچی، تو اس نے اس گھر کو ڈھا دیا، جب دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے، تو دیکھا کہ وہاں وہ بنگلہ نہیں ہے، تو اس کے بارے میں سوال فرمایا تو بتایا گیا کہ جب اس کو آپ کی کہی ہوئی بات کی خبر پہنچی، تو اس نے اسے ڈھا دیا، آپ صل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4161]
فوائد و مسائل:
علامہ ابن کثیر ؒ نےقبة کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے۔ (القبة من الخيام: بيت صغير مستدير) (النهايه: ماده قبب)
قبہ (خیمہ)
اس چھوٹے سے گھر کو کہتے ہیں جو گول شکل میں ہوتا۔
گھر کے آگے اس قسم کا خیمہ لگانا غالباً امارت کا اظہار ہوتا تھا اور صرف فخر کے لیے اس قسم کی زینت جائز نہیں۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نفقہ سب کا سب اللہ کی راہ میں ہے سوائے اس نفقہ کے جو گھر بنانے میں صرف ہوتا ہے کیونکہ اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2482]
نوٹ:
(سند میں زافر سخت وہم کے شکار ہوجاتے تھے، اور شبیب روایت میں غلطیاں کرجاتے تھے)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے (راہ میں) ایک اونچا قبہ دیکھا تو فرمایا: ” یہ کیا ہے؟ “ تو آپ کے اصحاب نے بتایا کہ یہ فلاں انصاری کا مکان ہے، آپ یہ سن کر چپ ہو رہے اور بات دل میں رکھ لی، پھر جب صاحب مکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس سے اعراض کیا (نہ اس کی طرف متوجہ ہوئے نہ اسے جواب دیا) ایسا کئی بار ہوا، یہاں تک کہ اسے معلوم ہو گیا کہ آپ اس سے ناراض ہیں اور اس سے اعراض فرما رہے ہیں تو اس نے اپنے دوستوں سے اس بات کی شکایت کی اور کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5237]
رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ اپنے ذاتی مکان میں رہائش رکھتے تھے اور وہ ان کی لازمی ضرورت کی حد تک ہی محدود ہوتے تھے۔
لمبے چوڑے اور اونچے اونچے محل کھڑے کرنا جن کا کوئی حقیقی مصرف نہ ہو شرعی مزاج کے خلاف ہے۔
بلکہ اونچی اونچی تعمیرات قیامت کی علامات میں سے ہیں۔