حدیث نمبر: 4157
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُمْ أَصَابَهُمْ جُوعٌ وَهُمْ سَبْعَةٌ , قَالَ : " فَأَعْطَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ , لِكُلِّ إِنْسَانٍ تَمْرَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ان کو بھوک لگی اور وہ سات آدمی تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات کھجوریں دیں ، ہر ایک کے لیے ایک ایک کھجور تھی ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: صحیح بخاری میں ہے کہ سب کو سات سات کھجوریں دیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4157
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله لكل إنسان تمرة , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأطعمة 23 ( 5411 ) ، سنن الترمذی/صفة جہنم 34 ( 2477 ) ، ( تحفة الأشراف : 2474 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/298 ، 353 ، 415 ) ( صحیح ) » ( حدیث میں لكل «إنسان تمرة» کا لفظ شاذ ہے ، اس لئے کہ صحیح حدیث میں «فأعطاني لكل إنسان سبع تمرات» آیا ہے کمافی صحیح البخاری )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی معیشت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کو بھوک لگی اور وہ سات آدمی تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات کھجوریں دیں، ہر ایک کے لیے ایک ایک کھجور تھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4157]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی ان کی ضرورت کی خوراک نہیں تھی اس کے باوجود جو چند کھجوریں موجود تھیں وہی دے دیں۔

(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دیتے تھے۔
قائد کو اپنے ساتھیوں کا اسی طرح خیال رکھنا چاہیے۔

(3)
تھوڑی چیز تقسیم کرتے وقت بھی انصاف اسی طرح ضروری ہے جس طرح زیادہ مال کی تقسیم میں۔

(4)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا صبر وایثار بے مثال ہے کہ ایک ایک کھجور ملی تو اسی پر اکتفا کرلیا کسی نے زیادہ حصہ لینے کی خواہش ظاہر نہیں کی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4157 سے ماخوذ ہے۔