سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : الْوُضُوءِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا باب: تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 414
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا ، اور اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ مرفوع حدیث کے حکم میں ہے، ان متعدد احادیث سے ثابت ہوا کہ شریعت نے آسانی کے لئے تین تین بار، دو دو بار، اور ایک ایک بار اعضاء وضو کو دھونا سب مشروع رکھا ہے جس طرح آسان ہو کرے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 81 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اعضاء وضو کو تین تین بار دھونے کا بیان۔`
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے وضو کیا، اور اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 81]
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے وضو کیا، اور اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 81]
81۔ اردو حاشیہ: امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونا فرض اور دو دو یا تین تین مرتبہ دھونا سنت ہے۔ دیکھیے: [صحیح البخاري، الوضوء، قبل حدیث: 135]
دیگر محدثین کی طرح امام بخاری رحمہ اللہ نے اس پر ابواب بھی قائم کیے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے: [صحیح البخاري، الوضوء، حدیث: 157- 159]
حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص تین سے زیادہ دفعہ دھوتا ہے، وہ سنت سے تجاوز اور انحراف کر کے اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔ دیکھیے: [سنن النسائي، الطھارة، حدیث: 140، و سنن أبي داود، الطھارة، حدیث: 135]
دیگر محدثین کی طرح امام بخاری رحمہ اللہ نے اس پر ابواب بھی قائم کیے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے: [صحیح البخاري، الوضوء، حدیث: 157- 159]
حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص تین سے زیادہ دفعہ دھوتا ہے، وہ سنت سے تجاوز اور انحراف کر کے اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔ دیکھیے: [سنن النسائي، الطھارة، حدیث: 140، و سنن أبي داود، الطھارة، حدیث: 135]
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 81 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 419 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار اعضائے وضو دھونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا، اور فرمایا: ” یہ اس شخص کا وضو ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بغیر نماز قبول نہیں فرماتا “، پھر دو دو بار دھویا، اور فرمایا: ” یہ ایک مناسب درجے کا وضو ہے “، اور پھر تین تین بار دھویا، اور فرمایا: ” یہ سب سے کامل وضو ہے اور یہی میرا اور اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کا وضو ہے، جس شخص نے اس طرح وضو کیا “، پھر وضو سے فراغت کے بعد کہا: «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 419]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا، اور فرمایا: ” یہ اس شخص کا وضو ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بغیر نماز قبول نہیں فرماتا “، پھر دو دو بار دھویا، اور فرمایا: ” یہ ایک مناسب درجے کا وضو ہے “، اور پھر تین تین بار دھویا، اور فرمایا: ” یہ سب سے کامل وضو ہے اور یہی میرا اور اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کا وضو ہے، جس شخص نے اس طرح وضو کیا “، پھر وضو سے فراغت کے بعد کہا: «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 419]
اردو حاشہ: (1)
یہ روایت سنداً ضعیف ہے تاہم اس میں مذکور مسائل دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔
(2)
ایک ایک بار اور تین تین بار وضو کی احادیث بھی پہلے گزرچکی ہیں اور وضو کے بعد مذکورہ بالا دعا آگے حدیث: 470 میں آرہی ہے۔
یہ دعا صحیح مسلم میں بھی مروی ہے۔ دیکھیے: (صحیح مسلم، الطھارۃ، باب الذکر المستحب عقب الوضوء، حدیث: 234)
یہ روایت سنداً ضعیف ہے تاہم اس میں مذکور مسائل دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔
(2)
ایک ایک بار اور تین تین بار وضو کی احادیث بھی پہلے گزرچکی ہیں اور وضو کے بعد مذکورہ بالا دعا آگے حدیث: 470 میں آرہی ہے۔
یہ دعا صحیح مسلم میں بھی مروی ہے۔ دیکھیے: (صحیح مسلم، الطھارۃ، باب الذکر المستحب عقب الوضوء، حدیث: 234)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 419 سے ماخوذ ہے۔